منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ایف بی آر نے ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز کے مالکان، ہسپتالوں اور ڈاکٹرز پر بھی ہاتھ ڈال دیا، دھماکہ خیز اقدام

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد/لاہور(این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نوٹسز کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ملک بھر کے نجی میڈیکل سینٹرز کے مالکان، ہسپتالوں اور ڈاکٹرز تک پھیلا دیا۔میڈیا رپورٹ میں ایک سینئر ٹیکس عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جون 2019 تک پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے پاس رجسٹرڈ ڈاکٹرز بشمول ڈینٹل سرجنز کی تعداد 2 لاکھ 58 ہزار 747 تھی

ہم زیادہ سے زیاہ ڈاکٹرز کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں۔ریجنل ٹیکس آفس اسلام آباد نے اس مہم کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں موجود 40 ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کی معلومات حاصل کرنے کے لیے نوٹس بھجوا کر کیا، اس ہسپتالوں کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 176 کے تحت نوٹسز بھیجے گئے۔اسی طرح آر ٹی او راولپنڈی نے 127 نجی ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں رجسٹریشن کے لیے نوٹسز بھیجے ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا تھا کہ آئندہ کچھ ہفتوں میں مزید نوٹسز بھیجے جائیں گے۔سرگودھا کے آر ٹی او اب تک 187 نوٹسز جاری کرچکے ہیں، جس میں سرگودھا میں 27 ڈاکٹرز، میانوالی میں 16، پیپلاں میں 10، بھکر میں 42، منڈی بہاالدین میں 17، جوہر آباد میں 60 اور بھلوال میں 15 ڈاکٹرز کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ کرانے کے لیے نوٹس بھیجے گئے۔اسی طرح کراچی میں آر ٹی او نے 30 ہسپتالوں کو نوٹسز بھجوائے جبکہ ٹیکس حکام کا کہنا تھا کہ اس مہم کا دائرہ کار شہر کے دیگر ہسپتالوں تک وسیع کردیا جائے گا۔خیال رہے کہ ہسپتالوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کی جانب سے جمع کروائی گئی ود ہولڈنگ ٹیکس کی تفصیلات سے موازنہ کیا جائے گا جس کے بعد ان ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کے ملازمین کو براہِ راست نوٹسز بھجوائے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…