پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

شیخ رشید کے مستعفی ہونے اور سعد رفیق کو کنٹریکٹ پر وزیر ریلوے لگانے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی سمیرا کومل نے شیخ رشید کے مستعفی ہونے اور سعد رفیق کو کنٹریکٹ پر وزیر ریلوے لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔وزارت ریلوے نے گیارہ ماہ میں 74ٹرین حادثات کا اعتراف کیا ہے۔ان حادثات میں، 20 مال گاڑیوں ،

19 مسافر ٹرینوں ، 20 ریلوے پھاٹک اور تین آتشزدگی کے حادثات شامل ہیں۔جبکہ بیسیوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔ان گیارہ ماہ میں ریلوے کا خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے دن رات محنت سے ریلوے کو ترقیافتہ محکمہ بنایا۔خواجہ سعد رفیق کے دور میں سالوں سے کھڑی ٹرینیں چلائی گئی۔خواجہ سعد رفیق کے دور میں ریلوے ایک منافع بخش ادارہ بن چکا تھا۔لیکن ان گیارہ ماہ میں ریلوے کو شدید ترین مالی خسارے کا سامنا ہے۔ریلوے کی تباہی کے ذمہ دار وزیر ریلوے شیخ رشید ہیں۔شیخ رشید ریلوے کیلئے سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ لہٰذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ریلوے میںروزبروز حادثات میں اضافے اور شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ریلوے کی تباہی اور مالی خسارے کے ذمہ دار شیخ رشید ہیں۔یہ ایوان وزیر ریلوے سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ریلوے کی بحالی کیلئے حکومت خواجہ سعد رفیق کو کنٹریکٹ پر ریلوے کا وزیر مقرر کردے۔تاکہ ریلوے کو مزید خسارے سے بچایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…