ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اسفندیار ولی خان پران کی پارٹی کے رہنما نے الزامات لگائے تھے، اے این پی کے انتباہ کے بعد شوکت یوسفزئی بھی میدان میں آ گئے

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

پشاور(آن لائن)صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ میں نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان پر کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ وہ حقیقت بتائی ہے جس سے خیبرپختونخوا کے عوام بھی پہلے ہی بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم اعظم ہوتی صاحب نے اسفندیار ولی کی کرپشن کی جو باتیں مختلف پریس کانفرنسز میں کی تھیں میں نے اسکا حوالہ دیا تھا

اعظم خان ہوتی بھی انہی کے پارٹی کے سینئر رہنما تھے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی طرف سے ہرجانے کا نوٹس جاری کرنے پر ردعمل دے رہے تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ ہرجانے کے نوٹس کا جواب ضرور دیں گے۔سیاست میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔اسفندیار ولی سینئر سیاست دان ہیں۔ ان کی اپنی پارٹی کے رہنما نے ان پر الزامات لگائے تھے۔ الزامات کے بعد یہ گھر کا نہیں بلکہ عوامی معاملہ بن گیا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ عدم تشدد کے دعویدار اے این پی کے سیکرٹری جنرل نے مجھے دھمکیاں دی ہیں وہ ان دھمکیوں کو دہرانا نہیں چاہتے اور نہ ان دھمکیوں کا جواب دینا چاہتے ہیں لیکن ہرجانے کے نوٹس کا جواب ضرور دیں گے سیاست میں ایسی باتیں ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا صوبے میں بد ترین دور حکومت عوام کبھی نہیں بھولے۔ 2008 سے 2013 تک صوبے میں جو امن وامان کی صورتحال تھی اسکا کریڈٹ بھی اے این پی کو جاتا ہے۔ اے این پی نے عوام سے کیے گئے وعدے اور دعوے کبھی پورے نہیں کیے۔ اس لیے عوام اسکو مسترد کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…