ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عامر کو پاکستانی ہونے پر فخر ہے، ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر ہونے والی تنقید پر محمد عامر کی اہلیہ دفاع کیلئے میدان میں آگئیں

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)فاسٹ بالر محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان اور کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد فاسٹ بالرکی اہلیہ اپنے شوہر کے دفاع میں میدان میں آگئیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں نرجس عامر کا کہنا تھا کہ محمد عامر انگلینڈ یا کسی دوسرے ملک کے لیے کرکٹ کھیلنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔عامر کو پاکستانی ہونے پر فخر ہے،

وہ کھیلنا اور صرف پاکستان کی نمائندگی کرنا پسند کرتے ہیں۔اسی ٹوئٹ میں نرجس کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے شوہر کو ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے معاملے پر وضاحت دینے کی ضرورت نہیں تھی تاہم وہ صرف یہ بتانا چاہتی ہیں کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے جو عامر پر تنقید کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عامر صرف ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوئے ہیں اور انہوں نے کرکٹ کو خیر باد نہیں کیا۔عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ وہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ پر بھرپور توجہ دے سکیں اور ملک ان پرفخر کرے۔نہ صرف عامر بلکہ ان کی بیٹی مِنسا بھی اگر بڑی ہوکر کرکٹ کھیلنا چاہے گی، عامر کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی پاکستان کی نمائندگی کرے۔نرجس کا کہنا تھا کہ وہ دعاگو ہیں کہ اللہ ان منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کو ہدایت دے جو عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر ان پر تنقید کررہے ہیں۔کہ ان کی بیٹی پاکستان کی نمائندگی کرے۔نرجس کا کہنا تھا کہ وہ دعاگو ہیں کہ اللہ ان منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کو ہدایت دے جو عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر ان پر تنقید کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…