منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

کس کو کتنا کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟انکم ٹیکس آر ڈیننس 2001 میں کی گئی اہم ترامیم کا وضاحتی سرکلر جاری

datetime 31  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ایف بی آر نے فنانس ایکٹ کے تحت انکم ٹیکس آر ڈیننس 2001 میں کی گئی اہم ترامیم کا وضاحتی سرکلر جاری کر دیا ‘جس کے مطابق ماہانہ 2لاکھ روپے پراپرٹی کرائے پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا۔ایف بی آر کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے سالانہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کی آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اعلامیے کے مطابق پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدن پر انکم ٹیکس کو 5 سے لیکر 35 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ایف بی آر کے سرکلر کے مطابق جائیداد سے حاصل ہونے والے دو لاکھ روپے تک کے کرائے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا جبکہ دو لاکھ سے 6 لاکھ روپے کی پراپرٹی کے کرائے سے ہونے والی آمدن پر 5 فیصد، 6 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 10 فیصد، 10 تا 20 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 15 فیصد، 20 لاکھ تا 40 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 20 فیصد، 40 لاکھ تا 60 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔اسی طرح 60 لاکھ تا 80 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 30 فیصد اور 80 لاکھ روپے سے زائد کی پراپرٹی انکم پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔سرکلر کے مطابق 50 لاکھ روپے تک کی پراپرٹی پر 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس، 50 لاکھ تا ایک کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 10 فیصد اور ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 15 فیصد اور ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد پر 20 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہو گا۔دستاویز کے مطابق 6 لاکھ تا 12 لاکھ روپے کی سالانہ آمدن پر 5 فیصد، 12 لاکھ تا 18 لاکھ روپے کی آمدن پر 10 فیصد ٹیکس، 18 لاکھ تا 25 لاکھ روپے کی آمدن پر 15 فیصد ٹیکس، 25 لاکھ تا 35 لاکھ روپے کی آمدن پر 17 فیصد، 35 لاکھ تا 50 لاکھ روپے کی آمدن پر 20 فیصد، 50 لاکھ تا 80 لاکھ روپے کی آمدن پر ساڑھے 22 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔

اسی طرح 80 لاکھ تا ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی آمدن پر 25 فیصد، ایک کروڑ 20 لاکھ تا 3 کروڑ روپے کی آمدن پر 27 فیصد، 3 کروڑ تا 5 کروڑ روپے کی سالانہ آمدن پر 30 فیصد، 5 کروڑ تا ساڑھے 7 کروڑ روپے کی آمدن پر32 فیصد ٹیکس اور ساڑھے 7 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ایف بی آر کے سرکلر کے مطابق ان ترامیم کا اطلاق یکم جولائی 2019 سے ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…