پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے الٹی میٹم کے باوجود شریف خاندان نے گنا کاشتکاروں کو ڈیڑھ ارب کی ادائیگی نہیں کی،سنگین الزامات عائد

datetime 30  جولائی  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود شریف خاندان کی تین شوگر ملوں نے گنا کے کاشتکاروں کو ڈیڑھ ارب روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ نادہندگان شوگرملوں میں سرفہرست رمضان شوگر مل چنیوٹ ہے جس کے مالکان میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف ہیں۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت پنجاب کو حکم دیا تھا کہ 30 جولائی 2019 ء تک گنا کے تمام کاشتکاروں کو ادائیگیاں کی جائیں اور ادائیگی نہ کرنے والے شوگر مل مالکان کے خلاف

حکومت پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت کارروائی کرے۔ عدالتی فیصلے کو دو ہفتے کا وقت گزر گیا ہے جبکہ عدالت کی طرف سے جاری کئے گئے شیدول کا اج 30 جولائی آخری روز تھا لیکن شوگر ملیں کسانوں کے ڈیڑھ ارب ادا نہ کیا ہے اور نہ ہی عدالتی فیصلے کو کوئی اہمیت دی ہے جبکہ حکومت پنجاب بھی عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد کرانے میں سرگرم دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ پنجاب کی صرف شریف خاندان کی ملکیتی شوگرملوں نے کسانوں کے اربوں روپے دبا رکھے ہیں۔ رمضان شوگر مل نے کسانون کے 58 کروڑ روپے دباء رکھے ہیں جبکہ شریف خاندان کی ایک اور شوگر مل العریبیہ نے 39 کروڑ پچاس لاکھ روپے کی ادائیگی کرنی ہے جبکہ شریف خاندان کی تیسری شوگر مل عبداللہ شوگر مل نے بھی کسانوں کو بیس کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء ذکاء اشرف کی ملکیتی شوگر مل کے ذمے چار کروڑ 88 لاکھ روپے واجب الادا ہیں جبکہ تحریک انصاف کے رہنماء ہمایوں اختر خان کی ملکیتی تاندالیانوالہ شوگر ملنے کسانوں کو سات کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔ عدالت کے حکم پر عمل نہ کرنے والی شوگر ملوں کے خلاف لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت صرف حکومت پنجاب ہی کارروائی کر سکتی ہے تاہم پنجاب کے کیبن کمشنر شریف خاندان کے ذاتی ملازموں میں سے ایک ہیں لیکن کمشنر اپنی مٹھی گرم ہونے کے بعد کسانوں کی مددکے لئے نہ کوئی قانون کو حرکت میں لا رہے ہیں اور نہ کوئی کارروائی کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ موجودہ کیبن کمشنر پنجاب شریف خاندان کے وفادار اور کرپٹ مافیا کا باقاعدہ حصہ ہیں

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے کیبن کمشنر کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے جبکہ دپٹی کمشنر چنیوٹ بھی رمضان شوگر مل کے ستائے ہوئے غریب کسانوں کی مدد نہیں کررہے ہیں کیونکہ رزانہ سینکڑوں کسان ڈی سی آفس کے باہر مظاہرہ کرکے خالی ہاتھ گھر چلے جاتے ہیں جبکہ ڈی سی شریف خاندان کی وفاداری کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی عدالت عظمیٰ کو نوٹس لینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…