پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں شدید لڑائی،لاٹھیوں ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال،تحریک انصاف کے اہم رہنما سمیت متعدد گرفتار

datetime 28  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)پانی کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ حل نہ ہونے پرسندھ کے وزیربلدیات سعید غنی کے دفترکے باہرفکس اٹ کے احتجاج پرپیپلزپارٹی کے کارکن مشتعل ہوگئے،فکس اٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں لاٹھیوں ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال کے بعد پولیس نے تحریک انصاف کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کو متعدد افراد سمیت حراست میں لے لیا۔کراچی کے علاقے کلفٹن میں وزیر بلدیات سندھ کے دفتر کے سامنے احتجاج کے دوران فکس اٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنان کے

درمیان جھگڑا ہوگیا فکس اٹ کی جانب سے اتوار کے روز تین تلوار پرپانی کی قلت کے خلاف وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کے دفتر کے بعد احتجاج کیا جارہا تھا۔احتجاج کے دوران فکس اٹ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوگئی اور علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔اس صورتحال کے بعد تحریک انصاف کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کلفٹن تین تلوار پر پریس کانفرنس پہنچے تو ان کو متعدد کارکنان سمیت گرفتار کرلیا گیا۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ارسلان گھمن،راجہ اظہردیگرنے واقعہ کے ذمہ دار وزیر بلدیات سعید غنی اورسندھ حکومت کوقراردیا ہے اورکہاہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے احتجاج کیا جارہا تھا، پولیس نے عالمگیر خان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری جانب ایس پی کلفٹن ے مطابق پولیس پہلے سے موجود تھی، فکس اٹ کے کارکنوں کو کشیدگی سے منع کیا تھا، دونوں اطراف کے کچھ کارکنان کو حراست میں لیا ہے ایس پی کلفٹن کے مطابق پولیس نہ ہوتی تو زیادہ تصادم ہوسکتا تھا، دونوں جماعتوں کو مظاہرہ ختم کرنے کہا اورپیپلزپارٹی کے کارکنان کو وزیر بلدیات سندھ کے دفتر کے باہر سے منتشر کردیا گیا۔فکس اٹ کے عالمگیرخان نے کہاکہ ہم نے جس مقام پر احتجاج کا اعلان کیا تھا وہاں مسلح افراد کیوں موجود تھے یہ سب کچھ سندھ حکومت کی مرضی سے ہورہا ہے، انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کو احتجاج سے تکلیف ہورہی ہے، ہمارے ہی 20 سے 25 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایس ایس پی شیراز نذیر نے کہا کہ فکس اٹ کے کارکنان احتجاج کرنے پہنچے تھے، پیپلزپارٹی والوں کے کارکنان بھی یہاں موجود تھے، تصادم میں دونوں جانب کے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین تلوار کے قریب تصادم میں 2 پولیس افسر بھی زخمی ہوئے ہیں، ڈی ایس پی اعظم خان اور سب انسپکٹرز خمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کاکہ پولیس نے عالمگیر خان کو 4 ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…