منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں شدید لڑائی،لاٹھیوں ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال،تحریک انصاف کے اہم رہنما سمیت متعدد گرفتار

datetime 28  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی)پانی کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ حل نہ ہونے پرسندھ کے وزیربلدیات سعید غنی کے دفترکے باہرفکس اٹ کے احتجاج پرپیپلزپارٹی کے کارکن مشتعل ہوگئے،فکس اٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں لاٹھیوں ڈنڈوں کے آزادانہ استعمال کے بعد پولیس نے تحریک انصاف کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کو متعدد افراد سمیت حراست میں لے لیا۔کراچی کے علاقے کلفٹن میں وزیر بلدیات سندھ کے دفتر کے سامنے احتجاج کے دوران فکس اٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنان کے

درمیان جھگڑا ہوگیا فکس اٹ کی جانب سے اتوار کے روز تین تلوار پرپانی کی قلت کے خلاف وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کے دفتر کے بعد احتجاج کیا جارہا تھا۔احتجاج کے دوران فکس اٹ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوگئی اور علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔اس صورتحال کے بعد تحریک انصاف کے ایم این اے اور فکس اٹ کے بانی عالمگیر خان کلفٹن تین تلوار پر پریس کانفرنس پہنچے تو ان کو متعدد کارکنان سمیت گرفتار کرلیا گیا۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ارسلان گھمن،راجہ اظہردیگرنے واقعہ کے ذمہ دار وزیر بلدیات سعید غنی اورسندھ حکومت کوقراردیا ہے اورکہاہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے احتجاج کیا جارہا تھا، پولیس نے عالمگیر خان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری جانب ایس پی کلفٹن ے مطابق پولیس پہلے سے موجود تھی، فکس اٹ کے کارکنوں کو کشیدگی سے منع کیا تھا، دونوں اطراف کے کچھ کارکنان کو حراست میں لیا ہے ایس پی کلفٹن کے مطابق پولیس نہ ہوتی تو زیادہ تصادم ہوسکتا تھا، دونوں جماعتوں کو مظاہرہ ختم کرنے کہا اورپیپلزپارٹی کے کارکنان کو وزیر بلدیات سندھ کے دفتر کے باہر سے منتشر کردیا گیا۔فکس اٹ کے عالمگیرخان نے کہاکہ ہم نے جس مقام پر احتجاج کا اعلان کیا تھا وہاں مسلح افراد کیوں موجود تھے یہ سب کچھ سندھ حکومت کی مرضی سے ہورہا ہے، انہوں نے کہاکہ ان لوگوں کو احتجاج سے تکلیف ہورہی ہے، ہمارے ہی 20 سے 25 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایس ایس پی شیراز نذیر نے کہا کہ فکس اٹ کے کارکنان احتجاج کرنے پہنچے تھے، پیپلزپارٹی والوں کے کارکنان بھی یہاں موجود تھے، تصادم میں دونوں جانب کے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین تلوار کے قریب تصادم میں 2 پولیس افسر بھی زخمی ہوئے ہیں، ڈی ایس پی اعظم خان اور سب انسپکٹرز خمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کاکہ پولیس نے عالمگیر خان کو 4 ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…