جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑے صوبے میں73فیصد سے زائد نابالغ لڑکیوں میں خون کی کمی کا انکشاف

datetime 26  جولائی  2019 |

کوئٹہ(آن لائن) بلوچستان میں 73فیصد سے زائد نابالغ لڑکیوں میں خون کی کمی کا انکشاف ہوا ہے جبکہ شادی شدہ خواتین میں یہ تعداد 61.3 فیصد ہے قومی غذائی سروے کے مطابق بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین اور بچے ضروری غذا سے محروم ہیں جو بنیادی طور پر خون میں کمی کا سبب بن رہی ہے کوئٹہ میں قومی غذائی سروے 2018 کے نتائج کا صوبائی سطح پر رسمی طور اعلان کیا گیا،

بلوچستان میں 18125 گھروں سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر ماں اور نابالغ بچوں سے متعلق رپورٹ مرتب کی گئی نیوٹریشن سیل بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد پانیزئی کہتے ہیں کہ صوبے میں غذائیت کی صورتحال تشویشناک ہے جس کے باعث 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اور ہر سال 50 سے 52 فیصد غذایت کی کمی کے شکار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیںانہوں نے کہا کہ سروے رپورٹ میں بتا یا گیا کہ 18 فیصد بچے لاغر پیدا ہوتے ہیں جو ذہنی طور پر انتہائی کمزور اور تعلیمی لحاظ سے بہتر کارکردگی دکھانے سے قاصر رہتے ہیںسروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں تقریبا 50 فیصد کے قریب پانچ سال سے کم بچے قد کی کمی یا نامکمل نشوونما کا شکار ہیں، 5 سال سے کم 30 فیصد بچوں کا وزن کم جبکہ 20 فیصد بچوں کا وزن ضرورت سے زیادہ ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ثناء اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ غذائیت کے مضمون کو نہ صرف نصاب میں شامل کیا جائے بلکہ وفاقی حکومت غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے لیے ہنگامی بنیادی پر ایمرجنسی نافذ کرے تاکہ ایسے بچوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے اس موقع پر بلوچستان کے وزیر صحت نصیب اللہ مری نے کہا کہ محکمہ صحت نے غذائیت کے شکار بچوں کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں جبکہ موجودہ صوبائی حکومت نے 22 اضلاع میں ایمرجنسی کے طور پر ماں اور بچے کے لیے غذا اور غذائیت کا پروگرام شروع کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…