منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

متحدہ اپوزیشن کایوم سیاہ،احتجاجی جلسہ،کارکنان رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے مال روڈ پہنچے،کنٹینر،کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا گیا پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں،تلخ کلامی

datetime 25  جولائی  2019 |

لاہور(این این آئی)متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی کال پر 25جولائی کو یوم سیاہ کے سلسلہ میں چیئرنگ کراس چوک میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا، انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اسٹیج کی تیاری کیلئے لایا گیا کنٹینر،کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سامان قبضے میں لے کر لیبر اور مقامی رہنماؤں کوبھی حراست میں لے لیاگیا،مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی اور مقامی رہنماؤں کی قیادت میں کارکن ریلیوں کی صورت میں ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ پہنچے جس کی وجہ سے مختلف شاہراہوں پر

ٹریفک کا نظام بری طرح جام رہا اورگاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی رہیں، کئی مقامات پر کارکنوں کے ریلے نے پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں گرا دیں،مختلف مقامات پر پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں اور تلخ کلامی بھی ہوتی رہی،جلسے میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف)،جمعیت اہلحدیث،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما او رکارکنان شریک ہوئے تاہم سب سے زیادہ تعداد (ن) لیگ کے کارکنوں کی رہی۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اعلان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں چیئرنگ کراس چوک میں احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے صبح سویرے ہی مال روڈ کا گھیراؤ کر لیا گیا اور چیئرنگ کراس چوک کی طرف آنے والے راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے منتظمین کی جانب سے اسٹیج کے لئے کنٹینر،شرکاء کے بیٹھنے کیلئے کرسیاں،ساؤنڈسسٹم اور دیگر سامان لایا گیا تاہم پولیس اور انتظامیہ نے سامان اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ لیبر اور مقامی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ مال روڈپر پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی اور راستوں کی بندش کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر رہا۔ لاہور کے مختلف علاقوں سے کارکن اراکین اسمبلی اور رہنماوؤں کی قیادت میں ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ پہنچے جس کی وجہ سے مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام بری طرح جام رہا۔ کارکنوں کی جانب سے ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے، نیازی تیرے ضابطے ہم نہیں مانتے، وزیر اعظم نواز شریف، مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیازی کے نعرے لگائے جاتے رہے۔

جلسے میں مسلم لیگ (ن) کی خواتین کی ایک بڑی تعداد سیاہ لباس پہنے شریک ہوئیں۔الحمر اچوک، استنبول چوک اور ریگل چوک میں پولیس نے کارکنوں کوپنجاب اسمبلی کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے جھڑپیں ہوئیں او رکارکن زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے تمام رکاوٹیں پیچھے ہٹاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ کچھ مشتعل کارکنوں نے مال روڈ پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے لگے ہوئے بینرز او رفلیکسز پھاڑ دئیے اور ان پر لاٹھیاں برساتے رہے۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے

مال روڈ کی طرف آنے والے تمام راستے بند کر دئیے گئے جس کی وجہ سے ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ رہا۔ پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے مال روڈ کو خالی کرنے کے اعلانات بھی کئے جاتے رہے۔ مسلم لیگ (ن)اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹریٹ میں جمع ہوئی جس سے قائدین نے خطاب کیا۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد شہباز شریف بھی ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ کی چھت پر آئے اور کارکنوں سے مختصر خطاب کرنے کے بعد ریلی کی صورت میں مال روڈ پر منعقدہ جلسے میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے۔پولیس کی طرف سے کارکنوں کوپنجاب اسمبلی کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے پنجاب اسمبلی کے داخلی راستے پر پولیس کے درجنوں اہلکار تعینات رہی۔ جلسے کے باوجود مال روڈ پر کاروبار جاری رہا او رتمام دکانیں کھلی رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…