منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کا میڈیا آزاد ہونے کا دعویٰ غلط ثابت، مریم نواز کی پریس کانفرنس کی خبر اور ٹکرز تک نہیں چلے، میڈیا آزاد ہے تو پھر یہ بلیک آؤٹ کیوں؟ کل واشنگٹن میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگے اور آج ان کی پارٹی حمایت مانگنے مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئی، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 24  جولائی  2019 |

وزیراعظم عمران خان نے کل پیس انسٹی ٹیوٹ میں دعویٰ کیا تھا پاکستان میں میڈیا مکمل آزاد ہے‘ عمران خان نے اس سے پہلے فاکس نیوز کے انٹرویو میں بھی کہا تھا، عمران خان کا یہ دعویٰ آج کچھ گھنٹے بعد غلط ثابت ہو گیا‘ آج مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کی لیکن پاکستان کے کسی چینل نے یہ پریس کانفرنس نہیں دکھائی‘ پریس کانفرنس کی خبر اور ٹکرز تک نہیں چلے‘

چینلز نے اس پریس کانفرنس کا اپنی اپنی ویب سائیٹس اور پیجز پر بھی بلیک آؤٹ کر دیا‘ ملک میں اگر میڈیا آزاد ہے تو پھر یہ بلیک آؤٹ کیوں ہے؟ ریاست یا حکومت کو کانٹینٹ پر اعتراض ہے تو یہ تمام سیاستدانوں کے لیے ریڈ لائینز طے کر دے‘ جو سیاستدان اس پر پاؤں رکھے‘ آپ اسے اسی جگہ روک دیں لیکن مکمل طور پر بلیک آؤٹ کرنا یہ اس آزادی رائے کی توہین ہے جس کے لیے میڈیا اور انسانیت دونوں نے بے شمار قربانیاں دیں‘ معاشرے بڑی مشکل سے اس لیول تک آئے ہیں جہاں یہ ہر قسم کی آواز سن اور سنا سکتے ہیں لیکن آزادی رائے کو یوں روک دینا یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے‘ حکومت کو اس بلیک آؤٹ کا نوٹس ضرور لینا چاہیے‘ آج آپ کسی کو نشانہ بنا رہے ہیں تو کل کو کوئی اور آپ کو بھی نشانہ بنائے گا‘ یہ دنیا ایک ایسی وادی ہے جس میں ہر کسی کو اس کی باز گشت ضرور سنائی دیتی ہے‘ کل عمران خان کی موجودگی میں واشنگٹن میں کیپیٹل ون ارینا میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگے اور آج ان کی پارٹی چیئرمین سینٹ کے لیے حمایت مانگنے مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچ گئی‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…