جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ، پی آئی اے کو لاکھوں کا نقصان

datetime 21  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) سول ایوی ایشن اتھارٹی کی غفلت و لاپرواہی کے باعث طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں تسلسل سے اضافہ ہورہا ہے۔ سات ماہ میں پی آئی اے کے34طیارے متاثر ہوئے، پی آئی اے کو لاکھوں کا نقصان برداشت کرنا ہڑا۔ذرائع کے مطابق کراچی اور لاہور ایئرپورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، پرندے ٹکرانے کی وجہ سے پی آئی اے کے

طیاروں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔سات ماہ کے دوران پی آئی اے کے34سے زائد طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، پرندے ٹکرانے کی وجہ سے پی آئی اے کے8طیارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، متاثر ہونے والے طیاروں میں بوئنگ777اور ایئربس320شامل ہیں۔سب سے زیادہ پرندے ٹکرانے کے واقعات کراچی ایئرپورٹ پر رپورٹ ہوئے، کراچی ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے15طیاروں سے جبکہ لاہور ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے11طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اس کے علاوہ سکھر ایئرپورٹ پر دو، پشاور ایئرپورٹ پر دو، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک اور کوئٹہ میں پرندے ٹکرانے کے دو واقعات رپورٹ ہوئے، پی آئی اے کو طیارے سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے اور ان واقعات سے پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا۔پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرندے ٹکرانے کی وجہ سے بعض پروازیں تاخیر کا بھی شکار ہوئیں جس کی وجہ سے مسافروں کو ہوٹل منتقل کرنا پڑا، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کراچی اور لاہور ایئرپورٹ پر پرندوں کو بھگانے کے حوالے سے پرانا اور دیسی طریقہ استعمال کیا جارہا ہیسی اے اے نے ملک کے کسی بھی ایئرپورٹ پر پرندوں کو بھگانے کیلئے جدید آلات نصب نہیں کئے، یاد رہے کہ پی آئی اے سمیت غیر ملکی ایئرلائن نے بھی پرندے ٹکرانے کے واقعات پر سی اے اے کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…