بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ، پی آئی اے کو لاکھوں کا نقصان

datetime 21  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) سول ایوی ایشن اتھارٹی کی غفلت و لاپرواہی کے باعث طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں تسلسل سے اضافہ ہورہا ہے۔ سات ماہ میں پی آئی اے کے34طیارے متاثر ہوئے، پی آئی اے کو لاکھوں کا نقصان برداشت کرنا ہڑا۔ذرائع کے مطابق کراچی اور لاہور ایئرپورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، پرندے ٹکرانے کی وجہ سے پی آئی اے کے

طیاروں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔سات ماہ کے دوران پی آئی اے کے34سے زائد طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے، پرندے ٹکرانے کی وجہ سے پی آئی اے کے8طیارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، متاثر ہونے والے طیاروں میں بوئنگ777اور ایئربس320شامل ہیں۔سب سے زیادہ پرندے ٹکرانے کے واقعات کراچی ایئرپورٹ پر رپورٹ ہوئے، کراچی ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے15طیاروں سے جبکہ لاہور ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے11طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اس کے علاوہ سکھر ایئرپورٹ پر دو، پشاور ایئرپورٹ پر دو، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک اور کوئٹہ میں پرندے ٹکرانے کے دو واقعات رپورٹ ہوئے، پی آئی اے کو طیارے سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے اور ان واقعات سے پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا۔پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرندے ٹکرانے کی وجہ سے بعض پروازیں تاخیر کا بھی شکار ہوئیں جس کی وجہ سے مسافروں کو ہوٹل منتقل کرنا پڑا، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کراچی اور لاہور ایئرپورٹ پر پرندوں کو بھگانے کے حوالے سے پرانا اور دیسی طریقہ استعمال کیا جارہا ہیسی اے اے نے ملک کے کسی بھی ایئرپورٹ پر پرندوں کو بھگانے کیلئے جدید آلات نصب نہیں کئے، یاد رہے کہ پی آئی اے سمیت غیر ملکی ایئرلائن نے بھی پرندے ٹکرانے کے واقعات پر سی اے اے کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…