منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی اقدامات ،گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ13 ارب 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالررہ گیا

datetime 18  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے جس سے رواں مالی سال کے دوران اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور 2017-18ء کے مقابلے میں 2018-19ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 32 فیصد کی

کمی ہوئی ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا حجم 13 ارب 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں میں نمایاں کمی کا بڑا سبب حکومت کی طرف سے تجارتی توازن کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات، ترسیلات زر میں اضافہ اور بیرونی کھاتوں کیلئے اضافی رقم کی فراہمی اور بہتر پالیسی فیصلے ہیں۔مالی سال 2017-18ء کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا حجم 19 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا جو 2018-19ء میں کم ہو کر 13 ارب 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک آ گیا ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران ان ترسیلات زر میں بھی اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 9.68 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ترسیلات زر کا حجم 21 ارب 84 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت کی طرف سے سخت مالیاتی اور میکرو اکنامک اقدامات کی وجہ سے رواں مالی سال کے دوران صورتحال میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ رواں سال مئی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا حجم ایک ارب ڈالر سے زائد تھا جبکہ جون میں یہ 99 کروڑ 59 لاکھ ڈالر رہا۔جی ڈی پی کے تناسب سے سالانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کی شرح 4.8 فیصد تک ریکارڈ کی گئی جبکہ سٹیٹ بینک نے یہ 4.5 فیصد سے 5.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع کا اظہار کیا تھا۔ اس کے برعکس 2017-18ء میں جی ڈی پی کے تناسب سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 6.3 فیصد تھا۔ دوسری طرف نان آئل درآمدات کیلئے ادائیگیوں میں کمی سے تجارتی فرق کو کم کرنے میں مدد ملی ہے اور 2018-19ء میں تجارتی خسارے میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 15.3 فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ درآمدات کا حجم 7.3 فیصد کی کمی کیساتھ 52 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران برآمدات کا حجم 24 ارب 21 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو کہ اس سے پچھلے مالی سال کے دوران 24 ارب 70 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…