بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی عوام اور عدلیہ کو سرخرو کر دیا، عالمی عدالت کے فیصلے پر میجر جنرل آصف غفور کا ردعمل

datetime 17  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اللہ تعالیٰ نے آج پاکستان کے عوام اور عدلیہ کو سرخرو کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر کہا کہ عدالتی فیصلہ پاکستان کی جیت ہے، آج پوری دنیا کے سامنے بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا، بھارت کی جانب سے عدالت میں پانچ پوائنٹس اٹھائے گئے تھے، اٹارنی جنرل پاکستان اور ا نکی ٹیم نے زبردست کام کیا،

پاکستان کی قانونی ٹیم نے عالمی عدالت میں ثبوت پیش کیے، عالمی عدالت نے پاکستان کے موقف کو درست قرار دے دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وزارت خارجہ نے بھی اس معاملے پر بہت اچھا کام کیا، انہوں نے کہا کہ کلبھوشن نیوی کا افسر ہے جس پر پاکستان کا موقف درست ثابت ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارت کے لیے ایک اور 27 فروری ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی بریت کی درخواست مسترد کر دی ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے فوجی عدالت سے دی گئی سزا کالعدم کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے، میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت کلبھوشن یادیو کی ان کے خاندان سے ملاقات کرائی۔واضح رہے کہ عالمی عدالت کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں، مقدمے کی تفصیلی شقوں کی جانب نہیں جاناچاہتے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ہے، جج نے بھارت اور پاکستان کی جانب سے وضعکیا جانے والا موقف بھی بیان کیا۔ جج نے کہا کہ کلبھوشن یادیو انڈین شہری ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اس کے علاوہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس کیس میں بھارت کو قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی، جج نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے خلاف مقدمہ اور سزا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی نہیں ہے،کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب قرار دے دیا گیا، کلبھوشن یادیو کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔عالمی عدالت نے کہا کہ پاکستان بھارت کو قونصلر رسائی دے،

پاکستان کا آئی سی جی پر دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا گیا، ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا،دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی سزا ختم نہیں ہوگی اور وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔بھارت کی جانب سے فوجی عدالت کے کلبھوشن یادیو بارے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کو بھی عالمی عدالت نے مسترد کر دیا ہے، بھارت کی جانب سے جاری کیا گیا کلبھوشن یادیو کو حسین پٹیل کے نام کا پاسپورٹ بھی اصلی تھا اور

اسی پاسپورٹ سے وہ 17 بار بھارت سے باہر گیا۔ اب کلبھوشن یادیو کا فیصلہ پاکستان میں ہی ہو گا، عالمی عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی عدالت نے کہا کہ پاکستان کی ہائی کورٹ کلبھوشن یادیو کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی جاسوس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ را کا ایجنٹ ہے اور اسے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا گیا تھا، پاکستان ملٹری کورٹ نے اپریل 2017ء میں جرائم کے اعتراف پر اسے سزائے موت سنائی تھی، جس پر بھارت اس سزا کے خلاف عالمی عدالت میں چلا گیا تھا، عالمی عدالت میں بھارت بتانے میں ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو کے پاس دو پاسپورٹ کیسے اور کیوں تھے۔ جج عبدالقوی احمد یوسف نے کلبھوشن یادیو کے کیس کا فیصلہ سنایا۔اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور کی قیادت میں پاکستان کا وفد بھی وہاں موجود تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…