بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

میرا مرنا جینا پاکستان میں ہے، پیچھے ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی،وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو عظیم ملک بنانے کا اعلان کر دیا

datetime 17  جولائی  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتا،میرا مرنا جینا پاکستان میں ہے، پاکستان کو عظیم ملک بنائینگے، لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں،ادارے میں اصلاحات کررہے ہیں، سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے، دباؤ ڈالنے والوں سے کہتا ہوں پیچھا ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی۔ بدھ کو یہاں گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی اسلام آباد میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں بار بار مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہوں، مدینہ کی ریاست میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہوتا ہے، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہوں تو ریاست تباہ ہوجاتی ہے جب کہ جن معاشروں نے ترقی کی وہاں سب کے لیے ایک ہی قانون ہے، عدل و انصاف ریاست مدینہ کے اصول تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے، میری ملک سے باہر کوئی جائیداد اور کاروبار نہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے جب کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے مفادات کچھ اور ہیں، جن پر کیسز ہیں ان سب کے رشتہ دار باہر بھاگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جو چھوٹی چوری کرتا ہے سب کو پتا ہے اس کے ساتھ جیل میں کیا سلوک ہوتا ہے، پچھلے سال جتنا ٹیکس ادا کیا اس کا نصف قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا گیا، ماضی میں جیسے پاکستان کو چلایا جارہا تھا اب پاکستان ویسے نہیں چل سکتا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں، ایف بی آر میں 700 ارب روپے کی چوری ہوتی تھی، ایف بی آر میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے تاہم دباؤ ڈالنے والوں سے کہتا ہوں پیچھا ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی، شناختی کارڈ کی شرط کی مخالفت وہ تاجر کر رہے ہیں جو اسمگلنگ کا سامان بیچتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ 22کروڑ افراد میں سے 15 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، شبر زیدی نے بتایا کہ پاکستان کا 70 فیصد ٹیکس 300 کمپنیاں دے رہی ہیں،

اگلے سال کے لیے پوری قوت سے 5500 ارب ریونیو اکٹھا کریں گے، ٹیکس نظام درست ہو تو قرضے بھی اتریں گے اور ترقیاتی کام بھی ہوں گے۔وزیراعظم نے شوکت ترین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرمیں 700 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے اس لیے ہمارا پہلا کام ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارا کام ہے کہ صنعت کی ترقی میں کاروباری حضرات کی مدد کریں اور انہیں سہولیات دیں تاکہ ملک کا ہر طبقہ ترقی کر سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ عوام کے لیے ہے، میرا کوئی ذاتی کاروبار اور ایجنڈا نہیں نہ بیرون ملک جائیدا ہے،وہ سابقہ حکمرانوں کی طرح نہیں ہیں جو ملک لوٹ کر باہر چلے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…