بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

پنجاب کے کئی شہروں میں آندھی کے بعدموسلا دھار بارشیں،نشیبی علاقے زیر آب،متعدد جاں بحق و زخمی،امدادی کارروائیاں شروع

datetime 14  جولائی  2019 |

لاہور/گوجرانوالہ/فیصل آباد/چنیوٹ(این این آئی)صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں آندھی کے بعد موسلا دھار بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے،آندھی اور بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام بری طرح متاثر ہوا جس سے کئی علاقو ں میں گھنٹوں بجلی بند رہی، لاہور میں کرنٹ لگنے اور چھت گرنے سے بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے، متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے بعض شہروں میں علی الصبح آندھی کے بعد موسلادھار بارش ہوئی جس سے ہر طرف جھل تھل ہو گئی۔ شدید بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔گوجرانوالہ، فیصل آباد، حافظ آباد، چنیوٹ،قصور، شیخوپورہ،نارروال، ڈسکہ اور مری سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں آندھی کے ساتھ تیز بارش ہوئی۔لاہور میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ عابد مارکیٹ، لارنس روڈ، مزنگ چونگی،وارث روڈ،گورنر ہاؤس، لکشمی چوک، محمد نگر سمیت دیگر کئی علاقوں میں پانی کھڑا رہا۔واسا ذرائع کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ بارش تاجپورہ میں 44 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ جوہر ٹاؤن میں 36، اقبال ٹاؤن اور نشتر ٹاؤن میں 35 ملی میٹر، گلبرگ اور اندرون شہر میں 33، فرخ آباد اور اپرمال کے علاقے میں 32 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔بارش کے بعد واسا کی ٹیمیں نکاسی آب کے لیے متحرک ہو گئی اور کئی مقامات پر موٹر یں نکال کر بارش کا پانی نکالا گیا۔ علاوہ ازیں آندھی اور شدید بارش کے باعث بجلی کی ترسیل کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ بارش کا سلسلہ رکنے پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بجلی بحالی کا کام شروع کیا گیا اور مرحلہ وار بجلی بحال کر لی گئی۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہونے والی بارش کے باعث حادثات کے نتیجے میں سات سالہ بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے۔

بتایا گیا ہے کہ فیکٹریا ایریا میں سات سالہ عبد اللہ گلی کا ہاتھ بارش کے کھڑے پانی میں بجلی کے پول سے چھو گیا جس سے اسے کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اہل علاقہ نے لیسکو کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے شکایات بھی درج کرائی گئیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔شیر شاہ کالونی میں مزدور بانسوں سے بنی ہوئی چھت کے نیچے سوئے ہوئے تھے جو بارش کی وجہ سے اچانک گر گئی جس کے نتیجے میں چار مزدور ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملنے پر اہل علاقہ اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر مزدوروں کو ملبے کے نیچے سے باہر نکالا لیکن ایک مزدور زخموں کی بات نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ریسکیو ٹیم نے لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…