اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

کیا نواز شریف کی سزا کا فیصلہ کالعدم ہو جائے گا؟معروف قانون دان نے حقائق سامنے رکھ دیے

datetime 12  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا ہے کہایسا نہیں ہوتا کہ اگر کوئی جج متنازع ہو جائے تو اس کے فیصلے فوری طور پر کالعدم قرار دے دیے جائیں،عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ ن کا کام عدلیہ کو بدنام کرنا تھا،جو وہ کر رہے ہیں،ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہاہے، جج کی ویڈیوکا معاملہ اب سپریم کورٹ میں آگیاہے،

اب اسلام آباد بھی اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک سپریم کور ٹ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں جو چیزیں ابھی تک سامنے آئی ہیں ان میں سے چند چیزوں کا جج ارشد ملک نے اقرار کیا ہے اور چند باتوں سے انکار کیا ہے، اس پر جامع تحقیقات ہونی چاہیں کیونکہ اس کی بڑی سزا بھی ہو سکتی ہے جس میں ان کی برطرفی بھی شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان پر الزامات ثابت ہو جائیں تو ان کے فیصلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے،یہ مقدمہ کتنا سنگین ہے؟اس کا فیصلہ تو اعلی عدالت ہی کرے گی۔رشید اے رضوی نے کہا کہ ان کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینا کا انحصار ایپلٹ کورٹ پر ہے کہ وہ کس انداز سے اور کس حد تک لے جاتی ہے؟ کیا وہ اس کو مس ٹرائل قرار دیتی ہے یا ری ٹرائل کا حکم؟ اس کا دارومدار اپیل کنندہ یعنی مسلم لیگ (ن) پر بھی ہے کہ کیا وہ اس معاملے کو اعلی عدالت لے کر جاتے ہیں کیونکہ انھوں نے ابھی تک اس معاملے کو اعلی عدالت کے دائرہ کار میں پیش نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اپیل کنندہ کا تو موقف ہے کہ انھوں نے اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں دے دیا ہے،لیکن عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ کا کام عدلیہ کو بدنام کرنا تھا،جو وہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔بعد ازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

رشید اے رضوی نے کہا کہ لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہاہے، جج کی ویڈیوکا معاملہ اب سپریم کورٹ میں آگیاہے، اب اسلام آباد بھی اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک سپریم کور ٹ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر سپریم کورٹ نے اجازت دی تو پھر ہائیکورٹ اس کو سن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری بات نواز شریف اور ان کی ٹیم پر ہے کہ وہ شواہد کے

معاملے میں کہاں تک جانا چاہتے ہیں؟جج صاحب کی طرف سے بھی بڑے الزامات سامنے آگئے ہیں لیکن یہ اس پر سوالات اٹھتے ہیں کہ جج صاحب نے اس وقت بات کیوں نہیں کی جب ان کورشوت کی پیشکش کی جارہی تھی؟ اس لئے اس معاملے کوٹائٹل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس وقت لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہا ہے اور یہ بہت خطر ناک ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ جج صاحبان، وکلاء، میڈیا اور سول سوسائٹی ملک کر اس عدالتی نظام کوبچائیں ورنہ صورتحال بہت خراب ہوجائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…