بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی بچانے اور بلوں میں کمی لانے کے لیے انوکھا طریقہ کار سامنے آگیا

datetime 6  جولائی  2019 |

لاہور( آن لائن )پنجاب میں بجلی کی طلب اور صارفین کے بلوں میں کمی لانے کا انوکھا طریقہ سامنے آگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیپکو نے یو پی ایس کا استعمال ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ صارفین کو گھروں سمیت دیگر مقامات پر یو پی ایس کا استعمال کرنے سے روکا جائے گا۔

اس ضمن میں پیپکو نے لیسکو سمیت تمام کمپنیوں کے سربراہان کو ایک مراسلہ جاری کر دیا ہے۔اس مراسلے میں کہا گیا کہ سالانہ بجلی کے لاکھوں یونٹس یو پی ایس کی بیڑیاں چارج کرنے میں استعمال ہو جاتے ہیں۔ یو پی ایس کی چارجنگ سے صارفین کو اضافی بلوں کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ یو پی ایس کے استعمال کی روک تھام سے بجلی کی بچت اور بلوں میں کمی لائی جا سکے گی۔ایک یو پی ایس ایک گھنٹے میں بجلی کے پانچ یونٹ استعمال کرتا ہے جو کہ ایک دن کے تقریبا 120 یونٹس بنتے ہیں۔ایک یونٹ کی قیمت 18 روہے بنتی ہے۔ اگر یو پی ایس کو چارج کرنے میں 100 یونٹس استعمال ہوئے تو ہم ان میں سے 25 یونٹس استعمال کر سکتے ہیں۔ باقی 75 یونٹس ضائع ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دنوں میں صارفین بجلی سے بچنے کے لیے یو پی ایس کا استعمال کرتے ہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گھروں ، دفاتر، دکانوں سمیت تمام مقامات پر یو پی ایس کا استعمال عام ہو چکا ہے ۔تاہم پیپکو کی ہدایات پرعوام نے بھی حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ پیپکو کو چاہئے کہ بجلی کی طلب اور رسد کا فرق مٹائے یا پھر عوام کو کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس سے وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں گرمی سے بچ سکیں ۔ عوام کا کہنا تھا کہ پیپکو کی جانب سے یو پی ایس کے استعمال پر پابندی کا عندیہ سمجھ سے باہر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…