بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

روز افزوں مہنگائی سے لا کھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو جائیں گے، میاں زاہد

datetime 5  جولائی  2019 |

کراچی(آن لائن )پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے غریب عوام کو مہنگائی سے بچانے کے احکاما ت لا ئق تحسین ہیں ورنہ روز افزوں مہنگا ئی سے لا کھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو جائیں گے جس سے وہ اور انکے اہل خانہ متاثر ہونگے جبکہ معیشت کی شرح نمو بھی

متاثر ہو جائے گی۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ آٹے اور چینی جیسی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے جنکی قیمتوں کو سابقہ سطح پر لانے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک میں خوراک کی کوئی کمی نہیں مگر اسکی قیمت اکثریت کی برداشت سے باہر ہورہی ہے۔انھوں نے کہا کہ گندم کی اچھی فصل کے باوجود گزشتہ چار ماہ میں آٹے کی قیمت میں چھ بار اضافہ ہو چکا ہے اور مستقبل قریب میں مزید اضافہ کا امکان موجود ہے جسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ بجٹ میںاٹھارہ ارب روپے کا ٹیکس ادا کرنے والے شوگر سیکٹر کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ چینی پرعائد سیلز ٹیکس سترہ فیصد کرتے ہوئے حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس اقدام سے قیمت میںصرف ساڑھے تین روپے فی کلوتک کا اضافہ ہو گامگر بازاروں میں اسکی قیمت میں توقعات سے زیادہ اضافہ ہوا جس سے عوام پر غیر ضروری بوجھ پڑا۔انھوں نے کہا کہ اب گھی اور کوکنگ آئل کا شعبہ بھی اپنی مصنوعات کی قیمت میں اٹھارہ سے بیس روپے کلو اضافہ کے لئے پر تول رہا ہے جو غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈال دے گا۔ حکومت نے پہلے اس شعبہ پر نئے ٹیکس عائد نہ کرنے اور موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی مگر بجٹ میں مختلف محاصل بڑھانے سے اسکی قیمت میں اٹھارہ سے بیس روپے تک کا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں گھی اور تیل کی فی کس کھپت پہلے ہی بین الاقوامی اوسط سے بہت کم ہے اور اس میں مزید کمی سے صحت عامہ کے سنگین مسائل جنم لینگے۔انھوں نے مطالبہ کیاکہ کھاد کی بوری میں 210 روپے کے اضافہ سے زرعی شعبہ متاثر ہو گا اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ اس وقت چند سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ سب کی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسے کنٹرول کرنے کا میکنزم بنایا جائے تاکہ عوام کی پریشانی میں کمی آ سکے۔اس نازک مسئلے میں وز یر اعظم کو خود موثر نگرانی کرنی ہوگی تاکہ معاملات قابو سے باہر نہ ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…