جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

(ن) لیگ میں فاروڈ بلاک،وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے کسی اپوزیشن رکن کو اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں‘ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بڑا اعلان کردیا

datetime 30  جون‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے کسی اپوزیشن رکن کو اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپوزیشن اراکین کے اپنی پارٹی کی پالیسوں سے اختلاف کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے ملنے میں کوئی قدغن نہیں،(ن) لیگ میں فاروڈ بلاک کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا، (ن) لیگ خود جانتی ہے کتنے اراکین اسمبلی انکی پالیسوں سے اختلاف رکھتے ہیں، ملک میں مہنگائی اور

دیگر مسائل ماضی کی تیس چالیس سالہ حکومتوں کا بویا ہوا بیج ہے جو ہم کاٹ رہے ہیں،پاکستان اورافغانستان کے درمیان میچ میں بلوچستان کے حوالے سے لہرائے جانے والے بینرز پر برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے بات کروں گا،ملک میں معاشی ترقی میں گوجر نوالہ کا اہم کردار ہے وہاں اکنامک زون کے قیام کے حوالے سے عمران خاں سے بات کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر لاہور میں گوجر نوالہ ایکسپو کے دورے کے موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے جمہورت کا حسن ہے اور اگر ن لیگ کے اراکین اسمبلی اپنی پارٹی کی قیادت کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کی پالیسیاں ملک کو بحرنوں سے نکال کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہیں تو ن لیگ کے اراکین اسمبلی کی عمران خاں سے ملاقات میں کیا حرج ہے؟جب ملک میں مسائل ہوں تو یقینی طور پر عوام میں مایوسی آتی ہے لیکن اس کے باوجودپاکستانی عوام آج بھی اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہے اور عوام اپوزیشن کیساتھ ملکر احتجاج کر نے یا سڑکوں پر آنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ عوام جانتے ہیں وزیراعظم عمران خاں ہی اس ملک کو بحرانوں سے نجات دلائیں گے اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری محمد سرور نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی رکن اسمبلی استعفے دیئے بغیر کسی دوسری جماعت میں شامل ہوتا ہے تو آئین کے تحت اس کی نااہلی بنتی ہے لیکن کسی سے ملاقات کرنے میں آئین اور قانون میں کوئی پابندی نہیں،ن لیگ میں فاوردڈ بلاک کے

حوالے سے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا انکے لوگوں کا سب پتہ ہے کہ کون کون انکی پارٹی قیادت کی پالیسوں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستا ن کے درمیان میچ کے موقع پر ہونے والی بدنظمی اور پاکستانی شائقین کو تشدد کا نشانہ بنانا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے جبکہ بلوچستان کے حوالے سے بینرز لہراناسفارتی اور اخلاقی اداب کے منافی ہے جسکے خلاف ہم احتجاج کر یں گے اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھائیں گے اور میں خود برطانوی اراکین پارلیمنٹ سے بات کروں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…