جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

عثمان بزدار نے کفایت شعاری کی نئی مثال قائم کردی، وزیراعلیٰ ہاؤس کے خرچوں میں کروڑوں روپے کی کمی

datetime 22  جون‬‮  2019 |

لاہور (پ ر) وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق حکومت پنجاب بچت اور شفافیت کے ویژن پر عمل پیرا ہے اور سرکاری خزانے کومقدس امانت سمجھ کر پائی پائی کے تحفظ کی پالیسی پر کاربند ہے-موجودہ حکومت کو پختہ یقین ہے کہ سرکاری خزانہ ایک مقدس امانت ہے اور غیر ضروری اخراجات مفاد عامہ کے منافی ہیں -پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بچت اورغیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کے عمل کا آغاز

وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس سے کیاہے اور سب کے لئے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر وزیراعلیٰ کے دفترنے تنخواہوں کے علاوہ دیگراہم مدات میں 2017-18 کے نسبت مالی سال 2018-19 کے حقیقی اخراجات میں تقریباً 60فیصد کمی کی ہے-وزیراعلیٰ کے تحائف و مہمانداری کے اخراجات 11کروڑ روپے سے کم کر کے 3کروڑ روپے کردئیے گئے ہیں او راس طرح اس مد میں تقریباً 8کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے- کفایت شعاری اورغیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی پالیسی کے تحت گاڑیوں کی مرمت کی مد میں اخراجات ساڑھے 4کروڑروپے سے کم کرکے نصف کر دئیے گئے ہیں -میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ سابق وزیراعلیٰ اوران کے عزیزواقارب کی نجی رہائشگاہوں کی سیکورٹی پر تقریباً 2ہزار سے زائد اہلکار تعینات تھے لیکن اب ان اہلکاروں کی تعدادمیں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے اور سیکورٹی کے لئے ناگزیر ضرورت کے تحت اہلکار تعینات کئے گئے ہیں -اس طرح سیکورٹی اخراجات میں تقریباً66فیصد کمی کی گئی ہے جو 83کروڑروپے سے کم ہو کر 28کروڑ روپے رہ گئے ہیں -یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعلی پنجاب کا لاہور میں کوئی کیمپ آفس، نجی رہائش یا دفتر نہیں اورمیں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائشگاہوں کی بہتری اور نئی تعمیر ات کی غلط روایت کو بھی بدل دیا گیاہے- سابقہ دورحکومت میں سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائشگاہوں کی دیواروں وغیرہ کی تعمیر ومرمت کی مد میں 28کروڑ روپے سرکاری خزانے سے خرچ کئے گئے تھے لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں ایسی کوئی غلط روایت نہ ہے اور نہ ہوگی،اب سرکاری خزانہ صرف اور صرف عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جاتاہے-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…