منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اپوزیشن کے کمزورکردارکی وجہ سے حکمران ظلم کررہے ہیں ،طاہرالقادری

datetime 1  جون‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے ٹورنٹو سے ٹیلیفون پر سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو ایک دن قانون اور عوام کی عدالت میں جھکنا پڑے گا ، یہ بے گناہوں کا خون ہے، رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے نام پر ملک میں مک مکا کا نظام رائج ہے۔ قومی اسمبلی کی تابعدار اپوزیشن کی وجہ سے وفاقی حکومت عوام پر ظلم اور من مانے فیصلے کررہی ہے۔ حکمرانوں نے جے آئی ٹی سے من پسند رپورٹ پر دستخط کروا کر اور پٹرول، ڈیزل مہنگا کر کے بتا دیا کہ اس پر اپوزیشن کا کوئی دباؤ ہے اور نہ عوام کی کوئی پروانہ ہی وہ کسی سیاسی جمہوری اخلاقیات پر یقین رکھتے ہیں۔ہے۔انہوں نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق عباسی، سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور، بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان، جواد حامد، سہیل رضا، شاہد بھٹی، علامہ فرحت عباس، مظہر علوی و دیگر شریک تھے۔ انہوں نے بول ٹی وی چینل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹ کمپنی کے معاملے میں قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے تاہم بول کے صحافی کارکنوں کیلئے فکر مند ہوں۔ ان کے روزگار کے حوالے سے کوئی انتقامی سیاست نہیں ہونی چاہیے ان کے روزگار کا تحفظ ضروری ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ دہشتگردی آج بھی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کا پہیہ رکا ہوا ہے، فوج دہشتگردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائیاں کررہی ہے تاہم حکومت کا کردار آج بھی منافقانہ ہے۔ فوج کے آپریشن کے باعث جیسے ہی دہشتگرد اپنے بلوں میں گھستے ہیں حکومت قومی ایکشن پلان کو پس پشت ڈال کر میگا پراجیکٹ کی آڑ میں ٹھیکیداری شروع کر دیتی ہے۔حکومت دہشتگردی کے خاتمہ میں سنجیدہ نہیں اسے صرف اپنا اقتدار اور مفاد عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث بااثر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گاا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…