بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں سورج سر پر آگیا،شدید ترین گرمی، درجنوں ہلاک

datetime 16  جون‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی ریاست بہار میں شدید گرمی کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم ازکم 49 افراد ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار وجے کمار کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں تین اضلاع میں ہوئی ہیں جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا۔وجے کمار کا کہنا تھا کہ مگادار ریجن کے تین اضلاع میں 49 افراد جاں بحق ہوئے اور یہ علاقے خشک سالی کا بھی شکار ہوئے تھے۔گزشتہ روز دوپہر کو اچانک یہ افسوس ناک واقعہ سامنے آیا اور

ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ افراد ہسپتال پہنچے۔عہدیدار کیمطابق اکثر ہلاکتیں ہفتے کی رات کو ہوئی تھیں اور چند اموات اتوار کو صبح ہوئیں۔صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اورنگ آباد میں واقع سرکاری ہسپتال میں مزید 40 متاثرہ افراد کو طبی امداد دی رہی ہے۔محکمہ صحت کے عہدیدار نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ مزید مریض ہسپتال لائے جارہے ہیں جن کا علاج ہورہا ہے اور اگر گرمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مزید اموات کا خدشہ ہے۔عہدیداروں کے مطابق اکثر متاثرہ افراد کی عمریں 50 برس سے زائد ہیں جو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچ رہے ہیں اور انہیں بخار، ڈائیریا اور متلی کی شکایت ہے۔اموات کے حوالے سے کہا گیا کہ 27 افراد اورنگ آباد، 15 افراد گیا اور نواڈا ضلعے میں 7 افراد دم توڑ گئے۔بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو 4 لاکھ بھارتی روپے امداد کا اعلان کر دیا ہے۔بھارت کے وزیر صحت ہرش وردھن کے مطابق عوام گرمی کی شدت کم ہونے تک گھروں سے باہر نہ نکلیں‘گرمی کی شدت سے دماغ متاثر ہوتا ہے جس سے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمی کی شدت صرف بہار میں ہی نہیں بلکہ بھارت کے شمالی علاقے بڑے پیمانے پر گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور ریاست راجستھان میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔یاد رہے کہ 2015 میں ہیٹ ویو کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان میں 3 ہزار 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔محققین نے 2017 میں کہا تھا کہ اگر گلوبل وارمنگ پر کوئی کام نہیں کیا گیا تو گنجان آباد جنوبی ایشیا میں صدی کے اواخر تک گرمی ناقابل برداشت حد تک بڑھ سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…