جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کاروباری برادری سخت پریشان ہے،سابق وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر کے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر شدیداعتراضات،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 14  جون‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(این این آئی) سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل تاجر برادری کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ اسے حقیقی معنوں میں کاروبار دوست بنایا جاسکے۔ زیر ریٹنگ کی سہولت کے خاتمے کی وجہ سے کاروباری برادری سخت پریشان ہے، جب تک ریفنڈز کا کوئی موثر نظام نہ ہواس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔  ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس، ریونیو اور اکنامک افیئرز کے چیئرمین اسد عمر سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل تاجر برادری کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ اسے حقیقی معنوں میں کاروبار دوست بنایا جاسکے۔ زیر ریٹنگ کی سہولت کے خاتمے کی وجہ سے کاروباری برادری سخت پریشان ہے، جب تک ریفنڈز کا کوئی موثر نظام نہ ہواس سہولت کو برقرار رکھا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی نجکاری مکمل حل نہیں بلکہ حل کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ تاجر برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے،جب وہ وزیر خزانہ تھے تو آئی ایم ایف ان پر مارک اپ کی شرح میں یکمشت چھ فیصد اضافہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا مگر صنعت و تجارت کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے اسے مسترد کردیا۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ریفنڈز کا باقاعدہ مکینزم ہونا چاہیے اور کوئی بھی مکینزم اچانک نافذ کرنے کے بجائے پہلے اس کا تجربہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ جیولری کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو اثاثہ جات ظاہر کرنے کی سکیم سے استفادہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ معاشی ترقی میں تاجر برادری کا کردار بہت اہم ہے لہذا اس کے تحفظات دور کرکے سکون سے کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے موثر اور جامع سسٹم متعارف کرائے،

75فیصد ریفنڈز بل آف لیڈنگ کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کے لیے اسی وقت بینکوں کے ذریعے ادا کردئیے جائیں جبکہ بقیہ تیس دن بعد ایکسپورٹ کا عمل آگے بڑھنے پر ادا کردئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لاہور چیمبر کے مطالبے پر خام مال سمیت 1600آئٹمز پر ڈیوٹیاں زیروکردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام 2800آئٹمز پر ڈیوٹیاں صفر ہونی چاہیے جس سے صنعتوں کی استعداد کار اور بعد ازاں حکومتی محاصل بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ٹیکس دہندگان سے حاصل کردہ رقم نقصان دہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز پر خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا، حکومت کو ان کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے مگر وفاقی سطح پر ان سے متعلقہ وزارتیں تبدیل شدہ ناموں کے ساتھ موجود ہیں، غیرضروری اخراجات ختم کرنے کے لیے ان معاملات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…