بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ایئر پورٹس پر غیر ملکیوں کے صحت کوائف کا اندراج محض کاغذی کارروائی تک محدود،سینٹ کمیٹی میں سنسنی خیز انکشاف

datetime 29  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت میں چیئرمین کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ایئرپورٹس پر غیر ملکیوں کے صحت کے کوائف کا اندراج محض کاغذی کارروائی کی حد تک کیا جا رہا ہے، غفلت پر مبنی طریقہ کار کی وجہ سے ایسے بہت سے غیر ملکی پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں۔

جن کے خون میں وبائی امراض پھیلانے والے وائرس خاص طور پر ایڈز جیسے موذی وائرس موجود ہوتے ہیں ،کمیٹی نے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ،جبکہ باہر سے آنے والے وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیئے لائحہ عمل بنانے سے متعلق قرار دادبھی متفقہ طور پر منظور کرلی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین سینیٹر میاں عتیق شیخ کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں انسداد پولیو پروگرام کے لئے وزیر اعظم کے ترجمان کے سوشل میڈیا پر بیانات کا معاملہ زیر غور آیا، انسداد پولیو پروگرام کے لئے وزیراعظم کے ترجمان بابر بن عطا نے کمیٹی کو بتایا کہ 2013 میں 93 پولیو کیسز تھے، 2014 میں 307 پر چلے گئے ،2017 میں 8 پر آگئے اور 2018 میں جب مجھے چارج دیا گیا تو پولیو کیسز 12 تھے ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ حکومت میں ہیں، آپ جذبات کو تھوڑا ٹھنڈا رکھیں،اجلاس میں فیڈرل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا معاملہ بھی زیر غور آیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جتنی جلدی یہ اتھارٹی کام کرے اچھی بات ہے ،اجلاس میں سندھ میں ایڈز کیسز سے متعلق معاملہ بھی زیر غور آیا،سیکرٹری صحت نے بتایا کہ یہ معاملہ میڈیا کے ذریعے سامنے آیا ،ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق سرنجز کا بار بار استعمال کیا گیا،20 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی، 607 ایچ آئی وی پازیٹو آئے ۔

جن میں زیادہ تر بچے ہیں ،بچوں کے والدین کو ایڈز نہیں تھا ،نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 27 مئی تک 681 لوگ ایچ آئی وی پازیٹو نکلے ہیں،جن میں 562 بچے شامل ہیں ،اس کے پیچھے سرنج کا بار بار استعمال ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک میں وبائی امراض بہت بڑھ رہے ہیں،ان امراض کو دنیا میں کنٹرول کیا جاتا ہے ،ایئر پورٹس کے صحت کے ڈیسکوں پر رکھے فارم پر غیر ملکیوں کے صحت کے کوائف کا اندراج محض کاغذی کارروائی کی حد تک کیا جا رہا ہے ،اور غیر ملکیوں کی صحت کے بارے میں غلط رپورٹس دفاتر میں بھیجی جارہی ہیں ۔

محکمہ صحت کے متعلقہ ڈیسکوں کے غفلت پر مبنی طریقہ کار کی وجہ سے ایسے بہت سے غیر ملکی پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں جن کے خون میں وبائی امراض پھیلانے والے وائرس خاص طور پر ایڈز جیسے موذی وائرس موجود ہوتے ہیں ،کمیٹی نے اس موقع پر قرارداد بھی منظور کی جس کے متن میں کہا گیا ایئرپورٹس پر اسٹاف کو زیادہ چوکنا بنایا جائے اور باہر سے آنے والے وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیئے لائحہ عمل بنایا جائے۔

اجلاس میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے متعلق معاملہ بھی زیر غور آیا ،سی ای او شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے کہا کہ زمین کی الاٹمنٹ 32 سال پہلے ہوئی تھی ،یہ زمین پرائیویٹ کمپنی کو الاٹ ہوئی تھی،یہ زمین چیریٹی کے لیئے الاٹ نہیں ہوئی ،اس موقع پر سینیٹر میاں عتیق شیخ نے استفسار کیا کہ کیا یہ ٹیچنگ ہسپتال ہے یا نہیں ؟ بغیر ٹیچنگ ہسپتال کے آپ 20 سال سے میڈیکل کالج کیسے چلا رہے ہیں ؟ کیا یہ زمین سو روپے پر اسکوائر فٹ الاٹ کی گئی ؟ کمیٹی نے سی ڈی اے سے ہسپتال کو الاٹ کی گئی اراضی سے متعلق تمام تفصیلات طلب کر لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…