جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایڈز سے بچا ئو، عالمی ادارے نے حکومت سندھ کا بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)جان لیوا موذی مرض ایڈز کے پھیلائو کو روکنے، متاثرہ مریضوں کی بحالی اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت سندھ کی سنجیدہ کوشش کا بھانڈا پھوٹ گیا۔صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈز سے بچائو کے لیے کی جانے والی کوششیں اس وقت منظر عام پر آئیں جب اعلی سطحی اجلاس میں وفاقی مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے سامنے سندھ ایڈز

کنٹرول پروگرام کے سربراہ نے فنڈز نہ دیئے جانے کا رونا رویا توعالمی ادارہ صحت کی کنٹری ہیڈ نے صوبائی حکومت پر عالمی قوانین پر عمل درآمد نہ کرانے کے الزامات عائد کرد یئے۔وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیرصدارت رتو ڈیرو لاڑکانہ میں ایڈز کے پھیلائو سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلی سطحی اجلاس کے شرکا اس وقت ہکا بکا رہ گئے جب انہیں سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے انچارج ڈاکٹر سکندر میمن نے بتایا کہ رتو ڈیرو اور گرد و نواح میں اسکریننگ کرنے کے لیے چھ کروڑ روپے درکار ہیں جس میں سے تین کروڑ 40 لاکھ روپے دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر وہ بھی نہیں ملے ہیں۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سکندر میمن نے شرکائے اجلاس کو بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے بعد اس مد میں چیک بھی جاری کیا گیا مگر تاحال پیسے نہیں ملے ہیں۔ذرائع کے مطابق سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نے وفاقی مشیر برائے صحت سے کہا کہ نیشنل ایڈز پروگرام سے دو لاکھ کٹس دلائی جائیں۔انچارج سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر سکندر میمن نے دوران اجلاس شرکا پر واضح کیا کہ سیکنڈ اور تھرڈ ایچ آئی وی ٹیسٹ کے لیے مزید 20/20 ہزار کٹس درکار ہوں گی۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی کنٹری ہیڈ ڈاکٹر پلیتا نے شرکائے اجلاس کو یہ بتایا کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ حکومت سندھ جنیوا کنونشن کے مطابق عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر پلیتا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکومتی ادارے سرنج کے بار بار استعمال کی روک تھام میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…