بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کی ترکی کو بھی تڑیاں ،نیا محاذ کھل گیا

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار نے خبردار کیا ہے کہ روسی میزائل کی وصولی کا عمل مکمل ہونے کی صورت میں انقرہ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایک امریکی نیوز چینل نے متعدد ذرائع کے حوالے سے باور کرایا ہے کہ روسی S-400 میزائلوں کی ڈیل کے حوالے سے یہ امریکا کی ترکی کو آخری وارننگ ہے۔نیٹو اتحاد کے رکن ترکی کو آئندہ ماہ زمین سے فضا میں

مار کرنے والاS-400 روسی میزائل نظام حاصل کرنا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس نظام کی خریداری نیٹو اتحاد کے لیے خطرہ پیدا کر دے گی۔ اس کے سبب ترکی F-35 طیاروں کے پروگرام سے محروم ہو جائے گا جو امریکا کی تاریخ میں ہتھیاروں کا مہنگا ترین پروگرام شمار کیا جا رہا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے مذکورہ عہدے دار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ روسی میزائل نظام نیٹو اتحاد کی جانب سے عسکری ساز و سامان کی خریداری کے لیے مقررہ معیارات سے موافقت نہیں رکھتا ہے۔سال 2017 میں بعض رپورٹوں سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ انقرہ نے S-400 میزائل نظام کے حصول کے لیے کرملن کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر مالیت کی ڈیل طے کی تھی۔ اگرچہ امریکا کی جانب سے خبردار کیا جاتا رہا کہ اس نظام کی خریداری کے نتیجے میں سیاسی اور اقتصادی نتائج مرتب ہوں گے۔ترکی کو S-400 نظام کی خریداری سے روکنے پر قائل کرنے کے واسطے امریکی وزارت خارجہ نے 2013 اور 2017 میں پیٹریاٹ میزائل نظام فروخت کرنے کی پیش کش کی تھی۔ ترکی نے دونوں بار اس پیش کش کو مسترد کر دیا کیوں کہ امریکا نے اس میزائل نظام کی حساس ٹکنالوجی منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔البتہ اختلاف کے باوجود اس پورے عرصے میں امریکا نے ترکی کو اجازت دی کہ وہ لوک ہیڈ مارٹن کمپنی کے F-35 طیارے کے پروگرام میں مالی اور صنعتی طور پر شریک رہے۔ یہ دنیا کا جدید ترین لڑاکا طیارہ شمار کیا جا رہا ہے۔گزشتہ برس ترکی نے اپنی سرزمین پر S-400 میزائل نظام کے لیے جگہ کے قیام کا کام شروع کیا تھا۔ انٹیلی جنس رپورٹوں میں مذکورہ تنصیبات کے مقام کی سیٹلائٹ تصاویر بھی شامل کی گئی تھیں۔رواں سال روس سے S-400 میزائل نظام حاصل کرنے کی صورت میں توقع ہے کہ یہ نظام 2020 میں استعمال کے لیے مکمل طور پر تیار ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…