جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ایک ڈالر 250 روپے  کا کب تک ہوجائے گا؟ انتہائی خطرناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 16  مئی‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گیلپ سروسے حکومتی معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد ہے آئندہ سال ڈالر 250 روپے تک پہنچے کی باتیں ہو رہی ہیں حکومت گرانے سے متعلق ابھی تک فیصلہ نہیں کیا تاہم مڈٹرم الیکشن جمہوری مطالبہ ہے  عمران خان بائیس سال تک جو کہتے رہے اس کا بالکل الٹ کر رہے ہیں سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کنٹینر والی زبان استعمال نہیں کروں گا۔

جمعرات کے روز نجی  ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا معاشی ٹیم میں نئے چہرے لائے گئے حکومتی ٹیم میں شامل کچھ چہرے پرانے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے ایمنسٹی سکیم جیسی چیزیں بہت اہم ہیں انہوں نے کہا حکومت مارکیٹ کو اپنے اعتماد میں نہیں لے سکی تحریک انصاف حکومت کا رویہ اور زبان اپوزیشن والی ہے ان کو اب تک یقین نہیں ہو سکا کہ وہ اقتدار میں آ چکے ہیں خواجہ آصف نے کہا کہ حکومتی صفوں میں غیر سنجیدگی ہے اور وزراء بچگانہ حرکتیں کرتے ہیں قومی اسمبلی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کو جواب دینے پر فواد چوہدری، مراد سعید اور حماد اظہر کی آپس میں لڑائی ہو گئی تھی انہوں نے کہا کہ حکومت  گرانے متعلق مسلم لیگ ن  نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا  یہ خود ہی اپنے بوجھ سے گر جائیں گے مڈٹرم الیشکن جمہوری مطالبہ ہے لیکن ابھی اجتماعی طورپر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گیلپ سروے حکومتی معاشی پالیسیوں پر عوام کی جانب سے عدم اعتماد کا اظہار ہے لوگ بینکوں میں پیسے رکھنے  کے بجائے کیش میں کاروبار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں حالات یہ ہیں کہ اگلے سال ڈالر 250 روپے تک پہنچنے کی باتیں ہو رہی ہیں معاشی صورتحال کی سمت کس طرف ہے یہ سمجھ سے باہر ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان قومی سطح کے واحد لیڈر ہیں جنہوں نے مشرف کے دور میں ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا بائیس سال جو باتیں کرتے رہے آج اس کا بالکل الٹ کر رہے ہیں

جس شخص کے قول و فعل میں اتنا بڑا تضاد ہو وہ ملک کیسے چلا سکتاہے انہوں نے کہا کہ سیاست چھوڑ دوں گا لیکن کنٹینر والی زبان استعمال نہیں کروں گا حکومت تبدیل کرنے کے لئے سیاسی حربے استعمال کریں گے خواجہ آصف نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم  بن گئی ہے مشاورت کے لئے اجلاس کی تجویز آئی ہے عید کے بعد مشاورتی اجلاس مین پارٹی پالیسی پر بات کی جائے گی اور بڑوں کے ساتھ بیٹھ کر طے کریں گے کہ پارٹی کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…