پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کا فرانس میں اسلامک اسکولز کھولنے کا ارادہ ، پیرس کو شدید تحفظات

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

پیرس(این این آئی)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی فرانس میں انٹرمیڈیٹ اسکولز قائم کرنے کی خواہش نے پیرس اور انقرہ کے درمیان تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فرانسیسی وزیر تعلیم جان میشیل بلینکر نے مقامی میڈیا کو دیے گئے بیان میں اس خیال کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔

انہوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرانس کی سیکولر پالیسی سے خارج قرار دیا۔بلینکر نے RMC ریڈیو کو انٹرویو میں ایردوآن کی جانب سے مذہبی سخت گیریت پھیلانے کی کوششوں پر نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اْس سیکولرزم کو پیٹھ دکھا دی ہے جو کئی دہائیوں سے اس کی تاریخ کا امتیاز رہا۔ اب اس کا رخ مذہبی بنیاد پرستی کی سمت ہو گیا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے بالکل واضح رہنا ہو گا۔ لہذا میں اس منصوبے کے سلسلے میں انتہائی خبردار کر رہا ہوں۔فرانسیسی وزیر نے ترکی کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ بلینکر نے باور کرایا کہ وہ فرانس میں بین الاقوامی اداروں کی موجودگی کے مخالف نہیں ہیں مگر ترکی کے حکام کی جانب سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے فرانسیسی اداروں پر دباؤ کو مسترد کرتے ہیں۔بلینکر کا یہ بیان فرانسیسی جریدے لوبوان میں 3 مئی کو شائع ہونے والے ایک مضمون پر تبصرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ ترکی کے صدر فرانس میں تْرک اسکولز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل ترک ذمے داران نے گزشتہ ماہ ترکی میں فرانسیسی انٹرمیڈیٹ اسکولوں کا دورہ کیا تھا۔ دورے کا مقصد اس امر کی تصدیق کرنا تھا کہ ترک طلبہ کی تعلیم کے واسطے یہ ادارے ترک معاشرے کی اقدار کی کس حد تک پاسداری کر رہے ہیں۔ترکی کی حکومت نے جولائی 2017 میں ایک نیا تعلیمی نصاب پیش کیا تھا۔ اس نئے نصاب میں بعض علمی نظریات کو حذف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے لیے مختص مواد کے ایک بڑے حصے کو 15 جولائی 2016 کو ایردوآن کے خلاف ناکام انقلاب کی کوشش کے متعلق متن سے تبدیل کر دیا گیا۔ترکی نے فرانس میں اپنا پہلا انٹرمیڈیٹ اسکول 2015 میں اسٹراس برگ شہر میں کھولا تھا۔ یہ فرانس میں تیسرا اسلامک اسکول تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…