اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملک میں گیس کی قلت میں بدترین اضافہ، انتہائی تشویشناک پیش گوئی کردی گئی

datetime 10  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں 7 لاکھ نئے صارفین کے آنے کے بعد ملک میں آئندہ برس گیس کی قلت میں 157 فیصد ہوجائے گا جو اس وقت صارفین کو پہنچائی جانے والی گیس کی مقدار کے برابر ہوگا. مذکورہ تخمینہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے لگایا ہے جس کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران گیس کی قلت 157 فیصد اضافے کے ساتھ 3.7 ارب کیوبک فٹ یومیہ (بی سی ایف ڈی) ہوجائے گی،

تاہم اگر اسی طرح اضافہ چلتا رہا تو 2028 تک یہ قلت 6.6 بی سی ایف ڈی تک جا پہنچے گی.اوگرا نے صنعتوں کی حالت 18-2017 کے عنوان سے جاری اپنی رپورٹ میں کہا کہ موجودہ مالی سال کے دوران طلب اور رسد کے درمیان 1447 ایم ایم سی ایف ڈی تھا جو آئندہ مالی سال تک بڑھ کر 3720 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ سکتا ہے. ریگولیٹر کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ملک میں طلب 6.9 بی سی ایف ڈی کی ہوگی جبکہ اس کی سپلائی 3.2 بی سی ایف ڈی تک رہے گی. رپورٹ کے مطابق 2024 میں طلب 7.7 بی سی ایف ڈی تک ہوگی جبکہ رسد 2.3 بی سی ایف ڈی تک ہوجائے گی جس کی وجہ سے ملک میں اس کی قلت 5.5 بی سی ایف ڈی تک پہنچ جائے گی.تاہم یہ بھی بتایا گیا کہ یہ قلت 1.9 بی سی ایف ڈی درآمد شدہ ایل این جی گیس کی وجہ سے کم ہو کر 3.6 بی سی ایف ڈی ہوجائے گا. اوگرا نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار جو اس وقت 3.3 بی سی ایف ڈی پر ہے، وہ 2028 تک کم ہوکر 1.6 بی سی ایف ڈی تک ہوجائے اور اسی سال تک طلب بڑھتے ہوئے 8.3 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی جس کی وجہ سے قلت 8.3 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی.تاہم ریگولیٹر کی جانب سے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ملک میں ایل این جی گیس کی برآمد، ٹاپی منصوبہ (ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت پائپ لائن منصوبہ) اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے بعد 2028 میں گیس کی قلت مجموعی طور پر کم ہوکر 4.6 بی سی ایف ڈی ہوجائے گی. اوگرا کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ملک میں پاور سیکٹر سمیت دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر گیس کی کھپت کی وجہ سے ملک میں گیس کی قلت پیدا ہورہی ہے اور اس کی رسد موجودہ طلب کو پورا نہیں کر پارہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…