منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

کوٹ لکھپت جیل کی ٹیم افطار سے قبل ہی نواز شریف کی رہائشگاہ پہنچ گئی  تھی،آتے کے ساتھ ہی سب سے پہلا کیا کام کیا؟تفصیلات منظر عام پر آگئیں 

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)کوٹ لکھپت جیل کی ٹیم افطار سے قبل ہی نواز شریف کی رہائشگاہ پہنچ گئی  تھی،آتے کے ساتھ ہی سب سے پہلا کیا کام کیا؟تفصیلات منظر عام پر آگئیں،کوٹ لکھپت جیل کی ٹیم افطار سے قبل نواز شریف کی رہائشگاہ پہنچ گئی اور ان کی سکیورٹی کو جیل قوانین سے متعلق مراسلہ وصول کرایاگیا۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کی رہائشگاہ پر آنے والی ٹیم نے مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا کہ ان کی ضمانت کی مدت پوری ہو چکی ہے اور اب وہ سرنڈر کر دیں۔  کوٹ لکھپت جیل سے آنے والی ٹیم کے ہمراہ سکیورٹی کے لئے پولیس کی گاڑیاں بھی آئیں تھیں۔علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نوازشریف جیل روانہ ہوگئے،مریم نوازبھی ہمراہ، گاڑی کون چلارہاتھا؟ حیرت انگیز صورتحال، تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے اپنے تایا سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی گاڑی ڈرائیور کی۔ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی اپنے والد کے ہمراہ گاڑی میں سوار تھیں۔نواز شریف فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اور ہاتھ ہلا کر اظہار یکجہتی کیلئے جمع ہونے والے کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتے رہے۔ دریں اثناء سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور لندن میں موجود ان کے چھوٹے شہباز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی چھ ہفتوں کی ضمانت مکمل ہونے پر جیل روانگی سے قبل چھوٹے بھائی شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے شہباز شریف کی صحت بارے آگاہی حاصل کی جبکہ چھوٹے بھائی نے بھی اپنے بڑے سے ان کی صحت بارے پوچھا اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…