پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

روزہ بند کرنے کیلئے فجر کی اذان سننا ضروری ہے یا نہیں ؟ مشیرایوان شاہی نے بڑے مسئلے کا حل بتا دیا

datetime 8  مئی‬‮  2019 |

ریاض (سی پی پی )علما کمیٹی کے رکن اور ایوان شاہی کے مشیر شیخ ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے کہا ہے کہ سحر ی کے انتہائی وقت کے مطابق کھانا پینا روک دینا چاہئے ۔ فجر کی اذان سن کر روزہ رکھنا مناسب نہیں ۔ سعودی ٹی وی کے پروگرام میں شیخ المطلق نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ روزہ رکھنے کیلئے لازمی نہیں کہ اذان سنی جائے ۔

ٹی وی پروگرام میں ایک سائل نے شیخ المطلق سے استفسار کیا کہ اگر اسکے علاقے کی مسجد میں فجر کی اذان وقت مقررہ پرنہ دی جائے یا کسی وجہ سے موذن تاخیر سے اذان دے تو کیا روزہ رکھنے کیلئے اذان کا انتظار کرنا ضروری ہے ؟سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ المطلق نے کہا کہ روزہ رکھنے کیلئے یہ لازمی نہیں کہ آ پ اذان کے الفاظ سن کر سحری بند کریں “ام القری کیلنڈر ” میں روزہ بند ہونے کے اوقات درج ہوتے ہیں اس لئے یہ ضروری نہیں کہ روزہ بند کرنے کیلئے اذان سنی جائے ۔ بلکہ ہر کیلنڈر کے مطابق روزہ رکھیں ۔انہو ں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے ایک مرتبہ خطبہ جمعہ میں اس امر کی وضاحت کی تھی جس میں انہو ں نے کہا تھا کہ ام القری ٹائمنگ چارٹ انتہائی باریک بینی سے مرتب کیاجاتا ہے جس میں تمام شرعی ضوابط کو مدنظر رکھا گیا ہے اس لئے روزہ رکھنے اور کھولنے کیلئے ٹائمنگ چارٹ کو مدنظر رکھا جائے ۔شیخ المطلق کا کہنا تھا کہ ام القری ٹائمنگ چارٹ کے بارے میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس میں وقت کا تعین درست نہیں کیا گیا وہ غلط کہتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…