رام اللہ(این این آئی) صہیونی فوج نے فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشیں قبضے میں لینے کے بعد ان کے دیدار پر اہل خانہ کو بلیک میل کرنا شروع کردیا اوران سے 1400ڈالر فیس وصول کی جانے لگی،مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق
اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شہر قلقیلیہ کے سنیریا قصبے میں ایک فلسطینی نوجوان عمر یونس کو گولیاں مارکر شدید زخمی کر دیا۔یہ واقعہ 20 اپریل کو پیش آیا۔ صہیونی فوجیوںنے عمر یونس کو تفوح یہودی کالونی کے قریب زعترہ چیک پوسٹ پر گولیاں ماریں۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا کہ عمر یونس نے ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گولی ماری گئی، تاہم صہیونی اپنے اس بے بنیاد دعوے کو ثابت نہیں کر سکے۔عمر یونس گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ وہ مسلسل بے ہوش رہا اور آخر کار جام شہادت نوش کر گیا۔ شہید عمر یونس کے بھائی عبدالکریم یونس کو جب پتا چلا کہ صہیونی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا ، اس نے اپنے بھائی سے ملنے کے لیے تمام راستے اور حربے استعمال کیے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سے مدد لینے کی کوشش کی گئی مگر صہیونی فوج نیعبدالکریم یونس کو اپنے شدید زخمی بھائی کو دیکھنے اور اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔آخر کارعبدالکریم یونس نے اسرائیل کی سیکیورٹی کمپنیوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی، یہ حیران کن ہے کہ ایک سیکیورٹی کمپنی کی طرف سے اس شرط پر عبدالکریم کو اپنے بھائی سے ملنے کی اجازت دی کہ وہ 4900 شیکل کی رقم اور اس کے ساتھ ٹیکس بہ طورچالان جمع کرے۔ امریکی کرنسی میںیہ رقم 1400 ڈالر سے زیادہ ہے۔



















































