ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

رمضان شوگر  مل   کے مالک   شریف خاندان نے گنا  کی ادائیگی سے انکار  کردیا، کسانوں کے 20ارب دبا لئے، افسوسناک انکشافات

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

چنیوٹ(آن لائن) پنجاب حکومت نے رمضان شوگر  مل سے غریب  کسانوں کو گنا کی ادائیگی کرانے  میں ناکام ہوگئی ہے۔ کین کمشنر  پنجاب  واجد بخاری  نے غریب کسانوں  کی مدد کرنے کی بجائے  رمضان شوگر مل  کے مفادات کے تحفظ  کرنے میں مصروف  ہے جبکہ  وزیراعلیٰ پنجاب  اور متعلقہ  وزراء   نے  بھی مجرمانہ  خاموشی اختیار کرلی ہے

رمضان شوگر  مل  کے مالک شریف  خاندان ہے جس نے قوم کو لوٹ کر لندن میں عیاشیاں   کررہے ہیں  رمضان شوگر مل  مالکان غریب کسانوں کے 20 ارب روپے سے زائد  کے واجبات ادا  کرنے سے  انکاری ہیں  جس کے نتیجے میں   غریب کسان مل  کا چکر لگا لگا کر تھک ہار گئے ہیں   تحریک انصاف  کی حکومت میں  بھی کسانوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے  رمضان شوگر  مل کے مالکان نے  کسانوں کو زبردستی  مہنگے داموں  چینی وصول  کرنے پر راضی کررہے ہیں  اور یہ چینی مارکیٹ ریٹس  سے  پانچ روپے فی کلو مہنگی ہے   جس پر کسانوں نے شدید احتجاج  کیا ہے رمضان شوگر  مل کے نام پر  شریف خاندان   کی کرپشن کیخلاف ریفرنس  عدالت میں زیر سماعت ہے  جبکہ اس مل کے مالک   شہباز شریف اور سلیمان شریف لندن میں لوٹی ہوئی دولت  پر عیاشی کررہے ہیں   اور کسان  غریب سڑکوں   پر دھکے کھارہے ہیں   کسانوں نے ڈی  سی چنیوٹ کے سامنے  دھرنا دے رکھا ہے   لیکن ابھی تک  غریب کسانوں کی  کوئی شنوائی نہیں ہورہی  کسانوں نے مطالبہ  کیا ہے کہ کرپٹ  کین کمشنر کو تبدیل  کیا جائے  اور اربوں  روپے کی ادائیگیاں  کو یقینی بنائی جائیں۔  پنجاب حکومت نے رمضان شوگر  مل سے غریب  کسانوں کو گنا کی ادائیگی کرانے  میں ناکام ہوگئی ہے۔ کین کمشنر  پنجاب  واجد بخاری  نے غریب کسانوں  کی مدد کرنے کی بجائے  رمضان شوگر مل  کے مفادات کے تحفظ  کرنے میں مصروف  ہے جبکہ  وزیراعلیٰ پنجاب  اور متعلقہ  وزراء   نے  بھی مجرمانہ  خاموشی اختیار کرلی ہے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…