پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

دہشت گردی کے خلاف جنگ، سری لنکن وزیر اعظم رانیل وکرم سنگھے  نے پاکستان کی مدد کا اعتراف کرلیا

datetime 26  اپریل‬‮  2019 |

کولمبو (این این آئی)سری لنکا کے وزیراعظم رانیل وکرم سنگھے نے کہا ہے کہ ضرورت پڑی تو ان کی حکومت ایسٹر کے موقع پر ہونے والوں دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور ان کے خاتمے کے لیے پاکستان سے مدد طلب کریگی۔ایک انٹرویو میں رانیل وکرم سنگھے نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے سری لنکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون فراہم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو دہشت گردوں کا سراغ لگانے اور ان کے خاتمے کے لیے ہم ان (پاکستان) کی مدد طلب کریں گے۔

سری لنکا کے وزیراعظم نے کہا کہ  میں اس المناک حادثے کو ہمارے ممالک کے درمیان موجود باہمی اعتماد کو مضبوط بنانے اور تعاون میں اضافے کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔رانیل وکرم سنگھے نے کہا کہ سری لنکا، ان حملوں میں غیر ملکی نیٹ ورک ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کررہا ہے تاہم اب تک ایسے کوئی شواہد موجود نہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ کسی ملک نے سلسلہ وار بم دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کی حمایت کی تھی جس میں تقریبا 250 افراد ہلاک ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ  ہمارے خطے میں موجود تمام ممالک کو ایک جیسے خطرات کا سامنا ہے، یہاں تک بہترین دفاعی نظام رکھنے والوں کو بھی بعض مرتبہ دہشت گردی کا سامنا ہوتا ہے، ہم نے دنیا بھر میں بارہا ایسا دیکھا ہے۔سری لنکا کے وزیراعظم نے کہا کہ  ہماری انٹیلی جنس نے بیرون ملک، غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ کام کیا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ سری لنکا عالمی دہشت گردی کا شکار ہوا ہے، یہ ہمارے لیے ایک نیا تجربہ ہے اور ہم ان دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ملک میں مسلم مخالف جذبات سے متعلق سری لنکن وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے 2012 سے 2014 میں کافی بہتری آئی ہے جب اقلیتی برادری بہت دباؤ کا شکار تھی۔انہوں نے کہا کہ 2015 سے مسلم مخالف جذبات کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔رانیل وکرم سنگھے نے کہا کہ ایسا صرف ایک واقعہ کینڈی میں پیش آیا تھا جس پر قابو پالیا گیا تھا، وہ ایسی تنقید کی صورت میں صبر کرتے ہیں اور بین المذاہب ہم آہنگی برقرار رکھنے میں ان کے سیاسی رہنماؤں کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر مسلم مخالف جذبات کی ایک لہر پوری دنیا سمیت ہمارے خطے میں پھیل رہی ہے، جس نے سری لنکا پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔سری لنکا کے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں آئینی طریقے سے ہر کمیونٹی کو سری لنکا میں ایک ساتھ رہنے کے لیے ضمانت لازمی فراہم کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…