پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

مسلم خاتون کو بھارتی سپریم کورٹ نے15سال بعد انصاف دیدیا

datetime 25  اپریل‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کی سپریم کورٹ نے گجرات کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ 15 سال قبل پْر تشدد واقعات کے دوران مسلمان خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے پر انہیں 50 لاکھ روپے زر تلافی، نوکری اور ایک مکان فراہم کریں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ گزشتہ ماہ متاثرہ خاتون بلقیس بانو نے 5 لاکھ روپے کی پیش کش کو مسترد کردیا تھا، خاتون کے وکیل نے سپریم کورٹ کے حکم کو

سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر متاثرین کو ان کے مقدمات میں مدد ملے گی۔بلقیس بانو کی وکیل شوبھا گپتا کا کہنا تھاکہ اس کیس میں عدالت کی جانب سے ریپ کے متاثرہ فرد کو زیادہ سے زیادہ تلافی معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عدالتی فیصلے کو تاریخی قرار دیا۔ان کے مطابق اس سے قبل 2017 میں شمال مشرقی بھارت میں ایک متاثرہ فرد کو 13 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد بلقیس بانو کے کیس میں سب سے زیادہ زر تلافی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اس طرح کے احکامات منظور کیے جاتے ہیں، جی ہاں، تو اس سے آپ کی اْمیدیں بڑھ جاتی ہیں’، ان کا کہنا تھا کہ ‘اس سے ایک پیغام جاتا ہے کہ عدالتیں موجود ہیں اور انصاف اب بھی فراہم کیا جارہا ہے۔گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ایک اسکیم منظور کی تھی، جس میں ریپ متاثرین کے لیے زر تلافی 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا، عدالت کا کہنا تھا کہ یہ امداد متاثرین کی صحت اور بحالی کے لیے استعمال ہوگی۔2012 میں نئی دہلی میں ایک طالبہ کے گینگ ریپ کے بعد ملک بھر میں احتجاج کیا گیا تھا جس کے بعد بھارت نے حملوں کے حوالے سے قانون کو مزید سخت کردیا۔تاہم ان سب کے باوجود بھی خواتین کو حکام تک پہنچے میں متعدد مشکلات کا سامنا ہے، جس میں مخالف رویے کی حامل پولیس، غلط میڈیکل اور فرانزک ٹیسٹ، بناوٹی تفتیش اور کمزور پروسیکیوشن شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…