پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر میں غم وغصہ اوراحساسِ محرومی بڑھ رہا ہے: بھارتی لیفٹیننٹ جنرل نے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 23  اپریل‬‮  2019 |

سرینگر( آن لائن )بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سابق کمانڈر لیفٹننٹ جنرل دیپندر سنگھ ہوڈا نے کشمیریوں میں بھارت کے خلاف بڑھتے ہوئے غم وغصے اور احساس محرومی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک اور سیاسی مقاصد کو واضح کرنے پرزور دیا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل ہوڈا نے ایک سیمینار کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے اکثر کشمیر کے حوالے سے الگ الگ سیاسی اور فوجی حکمت عملی اختیارکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ فوج نے کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال پر قابو پالیا ہے لیکن سیاسی سطح پر اس حوالے سے کام نہیں ہوا۔بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہمیں سیاسی اہداف پر مبنی ایک مشترکہ اور جامع فوجی اور سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم وادی کشمیر میں عوام کو ایک اچھا بیانیہ دینے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ سیمینار کا اہتمام جنرل ہوڈا کی طرف سے کانگریس پارٹی کے لیے قومی سلامتی کی حکمت عملی کے حوالے سے تیار کی گئی دستاویز پر آبزرور ریسرچ فاونڈیشن نے کیا تھا۔سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر پی چدم برم نے کہاکہ اگر بھارت پاکستان کا بھارت کے حوالے سے رویہ تبدیل کرانا چاہتا ہے توہمیں بھی پاکستان کے ساتھ اپنے رویے کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سکیورٹی سمیت بھارت کو خارجی سطح پر سب سے بڑے چیلنج کا جواب پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔ بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سابق کمانڈر لیفٹننٹ جنرل دیپندر سنگھ ہوڈا نے کشمیریوں میں بھارت کے خلاف بڑھتے ہوئے غم وغصے اور احساس محرومی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک اور سیاسی مقاصد کو واضح کرنے پرزور دیا ہے۔لیفٹننٹ جنرل ہوڈا نے ایک سیمینار کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے اکثر کشمیر کے حوالے سے الگ الگ سیاسی اور فوجی حکمت عملی اختیارکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…