پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

شوق کا مول نہیں، سعودی استاد ریٹائرمنٹ کے بعد کاشتکار بن گیا

datetime 8  جون‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی) سعودی استاد جبران محمد المالکی نے 20 برس شعبہ تدریس میں گزار نے کے بعد اپنے شوق کے لیے ’قہوہ کی تیاری اور کاشت‘ کومستقل پیشے کے طور پر اپنا لیا۔عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جبران المالکی نے کہا کہ مجھے عربی قہوہ کی تیاری سے اسے بچپن سے ہی لگاؤ تھا۔ اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ شوق مجھے وراثت میں ملا تھا۔ 20برس شعبہ تدریس سے

منسلک رہنے کے بعد جب ریٹائر ہوئے تو اپنے شوق کی تکمیل کے لیے تمام وسائل جمع کیے۔ جبران محمد المالکی کا کہنا تھا کہ20 سالہ تدریسی کیریئر کے دوران بھی ہمیشہ یہ سوچا کرتا تھا کہ کیا مجھے زندگی میں کبھی یہ موقع ملے گا کہ قہوہ کی کاشت اور تیاری کرسکوں۔ سچی لگن اورقہوے سے جنون کی حد تک محبت نے مجھے منزل تک پہنچا دیا۔ریٹائرمنٹ کے بعد جبران محمد المالکی نے اپنے گاؤں سے کچھ فاصلے پر اہل قریہ سے بات کرکے متروکہ زمینوں پر جسے انہو ں نے اس وجہ سے چھوڑ دیا تھا کہ وہاں ا?مد ورفت کافی دشوار تھی انہیں حاصل کیا اور وہاں ’ کافی‘ کی کاشت شروع کردی۔جازان کمشنری کے پہاڑی علاقے بنی مالک کے رہائشی اور استاد اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اب کاشتکار بن چکے تھے۔ جبران محمد المالکی نے مزید بتایا کہ اس نے متروکہ زمین کو کافی محنت کے بعد کاشت کے لیے ہموار کرکے ا سے ’قہوے کے باغات ‘ میں تبدیل کردیا۔جازان کمشنری میں اب المالکی کے ’قہوے کے باغات‘ مشہور ہیں جہاں اعلی درجے کے کافی کے بیج دستیاب ہوتے ہیں۔جبران محمد المالکی کے باغات میں چھ ہزار کافی کے درخت ہیں ۔ ایک ہزار درخت پیداوار کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ باغ سے سال میں ایک ہی فصل تیار ہوتی ہے۔ ہر درخت سے تین کلو گرام کافی کے بیج حاصل ہو تے ہیں۔جبران محمد المالکی کہنا تھا کہ ’ آج یہ لہلہاتے باغات میری ذاتی محنت کا ثمر اور میرے شوق کی تکمیل ہیں۔جو خواب میں بچپن سے دیکھاکرتا تھا آج پورا ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…