ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

شوق کا مول نہیں، سعودی استاد ریٹائرمنٹ کے بعد کاشتکار بن گیا

datetime 8  جون‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی) سعودی استاد جبران محمد المالکی نے 20 برس شعبہ تدریس میں گزار نے کے بعد اپنے شوق کے لیے ’قہوہ کی تیاری اور کاشت‘ کومستقل پیشے کے طور پر اپنا لیا۔عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جبران المالکی نے کہا کہ مجھے عربی قہوہ کی تیاری سے اسے بچپن سے ہی لگاؤ تھا۔ اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ شوق مجھے وراثت میں ملا تھا۔ 20برس شعبہ تدریس سے

منسلک رہنے کے بعد جب ریٹائر ہوئے تو اپنے شوق کی تکمیل کے لیے تمام وسائل جمع کیے۔ جبران محمد المالکی کا کہنا تھا کہ20 سالہ تدریسی کیریئر کے دوران بھی ہمیشہ یہ سوچا کرتا تھا کہ کیا مجھے زندگی میں کبھی یہ موقع ملے گا کہ قہوہ کی کاشت اور تیاری کرسکوں۔ سچی لگن اورقہوے سے جنون کی حد تک محبت نے مجھے منزل تک پہنچا دیا۔ریٹائرمنٹ کے بعد جبران محمد المالکی نے اپنے گاؤں سے کچھ فاصلے پر اہل قریہ سے بات کرکے متروکہ زمینوں پر جسے انہو ں نے اس وجہ سے چھوڑ دیا تھا کہ وہاں ا?مد ورفت کافی دشوار تھی انہیں حاصل کیا اور وہاں ’ کافی‘ کی کاشت شروع کردی۔جازان کمشنری کے پہاڑی علاقے بنی مالک کے رہائشی اور استاد اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اب کاشتکار بن چکے تھے۔ جبران محمد المالکی نے مزید بتایا کہ اس نے متروکہ زمین کو کافی محنت کے بعد کاشت کے لیے ہموار کرکے ا سے ’قہوے کے باغات ‘ میں تبدیل کردیا۔جازان کمشنری میں اب المالکی کے ’قہوے کے باغات‘ مشہور ہیں جہاں اعلی درجے کے کافی کے بیج دستیاب ہوتے ہیں۔جبران محمد المالکی کے باغات میں چھ ہزار کافی کے درخت ہیں ۔ ایک ہزار درخت پیداوار کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ باغ سے سال میں ایک ہی فصل تیار ہوتی ہے۔ ہر درخت سے تین کلو گرام کافی کے بیج حاصل ہو تے ہیں۔جبران محمد المالکی کہنا تھا کہ ’ آج یہ لہلہاتے باغات میری ذاتی محنت کا ثمر اور میرے شوق کی تکمیل ہیں۔جو خواب میں بچپن سے دیکھاکرتا تھا آج پورا ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…