پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

مال کے بدلے جنگ۔۔۔! افغانی باشندے شام میں ایرانی توپوں کا پیٹ بھر رہے ہیں،فرانسیسی اخبار کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

پیرس (این این آئی )فاطمیون بریگیڈ جس کو ایرانی پاسداران انقلاب نے 2013 میں بنایا تھا ، یہ بریگیڈ بشار الاسد کی طرف سے لڑنے کے واسطے شیعہ مہاجرین کو بھرتی کر رہا ہے۔ مال کے بدلے ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک ایسی جنگ میں آخری سانس تک لڑتی ہے جو ان کی جنگ ہی نہیں۔

فرانسیسی خبار کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری میں امریکا نے اس بریگیڈ کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جب کہ واشنگٹن اب پاسداران کو بھی ایک دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے چکا ہے۔سال 2015 اور 2016 میں جب شام کی جنگ عروج پر تھی ، زرد پرچم کے حامل ان جنگجوؤں کی تعداد 10 ہزار کے قریب تھی۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ حسین غیر قانونی طریقے سے ایران پہنچا تھا۔ ایرانی حکام ہر جگہ رضاکاروں کی تلاش میں چھاپے مار رہے تھے۔ وہ فیکٹریوں اور یہاں تک کہ جیل کے قیدیوں میں بھی افغانوں کو ڈھونڈ رہے تھے ! ان لوگوں سے وعدے کیے گئے کہ شام جانے کی صورت میں انہیں آزادی مل جائے گی۔ حسین کے مطابق ایک روز پولیس نے اسے روک کر کہا کہ اگر وہ شام جا کر لڑائی میں حصہ لے تو اسے مال دیا جائے گا اور ساتھ ہی شناختی دستاویزات بھی جاری کر دی جائیں گی۔ تاہم حسین نے یہ سوچ کر اس پیش کش کو مسترد کر دیا کہ اگر وہ شام میں مارا گیا تو افغانستان میں اس کے والدین اور بہنوں کا کیا ہو گا۔ ایرانی حکام نے حسین کی بے دخلی کا فیصلہ کیا اور وہ ایک بار پھر وہاں سے فرار ہو گیا۔بہت سے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی شام چلے گئے۔ ایران نے شام میں بشار الاسد کی آمریت کو بچانے کے واسطے مذہبی کارڈ استعمال کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…