جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

چین :ماہرین نایاب کچھوے کی نسل بچانے میں مصروف

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) چینی ماہرین ایک نایاب نسل کے دیو ہیکل کچھوے کی نسل بچانے کیلئے ان دنوں سخت محنت کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں شنگھائی کے قریب واقع ایک چڑیا گھر میں ماہرین کی ٹیم نے مادہ کچھوے کو مصنوعی طریقے سے حاملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس منصوبے کے سربراہ جیرالڈ کچلنگ ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اس طریقے سے اگر انہیں ایک یا دو انڈے بھی مل جائیں تو وہ اسے اپنی خوش قسمتی سمجھیں گے۔ حتیٰ کہ اگر ایک کچھوا بھی پیدا ہوگیا تو بھی یہ اس نسل کے بچاو¿ کیلئے اہم پیش رفت ہوگی۔ نرم خول والا یہ کچھوا چین کے دریاو¿ں میں پایا جانے والا عام جانور تھا۔ اسے تازہ پانی کا سب سے بڑا کچھوا سمجھا جاتا ہے تاہم نوے کی دہائی میں ڈیم بنانے کے عمل، شکار اور آلودگی کے سبب اس کی نسل خطرات سے دوچار ہوئی اور اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ یہ نسل معدوم ہونے کے قریب ہے۔ چینی ماہرین کے مطابق فی الوقت دنیا میں اس نسل کے صرف چار کچھوون کی موجودگی سے ماہرین واقف ہیں۔ ان میں سے مذکورہ مادہ کچھوا سوزو زو کی ملکیت اور85 برس کی ہے۔ ماہرین گزشتہ کئی برس سے اس مادہ اور ایک100سالہ کچھوے کے ملاپ کی کوششیں کررہے ہیں تاہم اس میں وہ ناکام ہیں اور مادہ مسلسل غیر فرٹیلائز انڈے دے رہی ہے۔ اسی نسل کی ایک اور مادہ کچھوا بیجنگ زو میں تھا تاہم2004میں وہ مر گئی تھی جس کے تین برس ماہرین کو اس کچھوے کے بارے میں علم ہوا۔ ماہرین اس معاملے میں کس قدر سنجیدگی سے کوششیں کررہے ہیں، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ملک بھر کے چڑیا گھروں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ اپنی ملکیت میں موجود تمام نرم شیلز والے کچھووں کی تصاویر انہیں ارسال کریں تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ آیا ملک میں ان چار کچھووں کے علاوہ مذکورہ نسل کا کوئی اور کچھوا ہے یا نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…