پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں جنونیوں ہندوئوں کا مسلمان بزرگ شہری پر تشدد کس جانور کا گوشت کھلادیا؟68سالہ شوکت پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا

datetime 9  اپریل‬‮  2019 |

آسام( آن لائن )بھارت کی ریاست آسام میں نفرت اگلتے جنونی ہندوئوں نے ایک اور مسلمان پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ 68 سالہ شوکت علی کو گھیر رکھا ہے۔

جن کے کپڑے زدوکوب کرنے کے باعث کیچڑ میں لت پت اور پھٹ چکے ہیں۔ واقعے کی دوسری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تنہا شخص کو گھیر کر انتہا پسند ہندوئوں نے ایک پیکٹ میں سے سور کا گوشت نکال کر انہیں وہ گوشت کھانے پر مجبور کیا۔ویڈیو میں جنونی افراد بزرگ شخص سے ان کی شناخت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہے اور آسام کے قانون کے مطابق 14 سال کی عمر سے زائد مویشی کو کاٹنے کی اجازت ہے جس کے لیے جانور کی صحت سے متعلق سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے۔مقامی پولیس کے مطابق شوکت ایک کاروباری شخص ہیں اور گزشتہ 35 سال سے اس علاقے میں ہوٹل چلا رہے ہیں ہجوم نے ان پر ہر ہفتے لگنے والے بازاروں میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگایا۔تاہم صورتحال اس وقت خراب ہوگئی جب شرپسندوں نے شوکت علی کو بری طرح زدو کوب کرنے کے بعد انہیں سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔رپورٹس کے مطابق شوکت علی زخمی ہونے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ہجوم نے ہفتہ بازار کے مینیجر کمل تھاپا سے بھی بدتمیزی کی۔واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے نامعلوم افراد کے خلاف 2 مقدمات درج کیے ہیں جس میں سے ایک کمل تھاپا جب کے دوسرا مقدمہ شوکت علی کے اہلِ خانہ نے درج کروایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…