منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بھارت میں جنونیوں ہندوئوں کا مسلمان بزرگ شہری پر تشدد کس جانور کا گوشت کھلادیا؟68سالہ شوکت پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا

datetime 9  اپریل‬‮  2019 |

آسام( آن لائن )بھارت کی ریاست آسام میں نفرت اگلتے جنونی ہندوئوں نے ایک اور مسلمان پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہجوم نے ایک مسلمان بزرگ 68 سالہ شوکت علی کو گھیر رکھا ہے۔

جن کے کپڑے زدوکوب کرنے کے باعث کیچڑ میں لت پت اور پھٹ چکے ہیں۔ واقعے کی دوسری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ تنہا شخص کو گھیر کر انتہا پسند ہندوئوں نے ایک پیکٹ میں سے سور کا گوشت نکال کر انہیں وہ گوشت کھانے پر مجبور کیا۔ویڈیو میں جنونی افراد بزرگ شخص سے ان کی شناخت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں گائے کے گوشت پر پابندی نہیں ہے اور آسام کے قانون کے مطابق 14 سال کی عمر سے زائد مویشی کو کاٹنے کی اجازت ہے جس کے لیے جانور کی صحت سے متعلق سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہے۔مقامی پولیس کے مطابق شوکت ایک کاروباری شخص ہیں اور گزشتہ 35 سال سے اس علاقے میں ہوٹل چلا رہے ہیں ہجوم نے ان پر ہر ہفتے لگنے والے بازاروں میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگایا۔تاہم صورتحال اس وقت خراب ہوگئی جب شرپسندوں نے شوکت علی کو بری طرح زدو کوب کرنے کے بعد انہیں سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا۔رپورٹس کے مطابق شوکت علی زخمی ہونے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ہجوم نے ہفتہ بازار کے مینیجر کمل تھاپا سے بھی بدتمیزی کی۔واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے نامعلوم افراد کے خلاف 2 مقدمات درج کیے ہیں جس میں سے ایک کمل تھاپا جب کے دوسرا مقدمہ شوکت علی کے اہلِ خانہ نے درج کروایا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…