جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ میں لڑکیوں کی ’ڈیجٹیل میڈیا‘ میں دلچسپی، رپورٹ

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)ایک سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق، لڑکیاں مطالعے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کو زیادہ پسند کرتی ہیں، اس کے برعکس لڑکے روایتی پرنٹ میڈیا کو مطالعے کے لیے ترجیح دیتے ہیں۔چلڈرنز اینڈ ینگ پیپلز ریڈنگ’ نامی جائزہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر مطالعہ سے لطف اندوز ہونے والے طالب علموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود صنفی فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتابیں پڑھنے کے شوق کے ساتھ لڑکیوں نے لڑکوں کو مطالعہ نویسی میں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔برطانوی ماہرین تعلیم کے مطابق، جی سی ایس ای ایس (میٹرک) میں زیر تعلیم لڑکیوں میں ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں انٹرنیٹ سے زیادہ پڑھنے کا رجحان پایا گیا۔اسی طرح لڑکیوں میں ڈیجیٹل تعلیم اور دیگر انٹرنیٹ فارمیٹس مثلاً ای میل اور ٹیکسٹ پیغامات کے علاوہ سوشل نیٹ ورکنگ کا استعمال عام ہے۔اس رجحان کے برعکس لڑکے روایتی مطبوعہ ذرائع مثلا اخبارات ،کتابچے اور کومکس پڑھنا پسند کرتے ہیں۔نیشنل لٹریسی ٹرسٹ’ کی پانچویں سالانہ رپورٹ برطانیہ کے 130 اسکولوں کے 32,000 طالب علموں کے جوابات پر مشتمل ہے،جن کی عمریں 8 سے 18 سال کے درمیان تھیں۔سروے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ لڑکیاں اسکول کے باہر مطالعہ نویسی کے رجحان کےساتھ لڑکوں سے آگے ہیں۔ 46.5 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ ہر روز کلاس کے بعد بھی پڑھائی کرتی ہیں جبکہ اس جواب کے ساتھ لڑکوں کی تعداد 35.8 فیصد رہی۔لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت مطالعہ نویسی کا رجحان کم پایا گیا جبکہ لڑکیوں کے مقابلے میں وہ کتابیں پڑھنے کے بارے میں کم مثبت سوچ رکھتے ہیں۔لٹریسی ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق،لڑکوں میں کتابیں پڑھنے سے لطف اندوز ہونے کا رجحان لڑکیوں کے مقابلے میں کم تھا۔ مطالعے سے بہت زیادہ لطف اندوز ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 61.6 فیصد اور لڑکوں کی تعداد 47 فیصد تھی۔اسی طرح 38 فیصد لڑکوں نے بتایا کہ وہ مہینے میں ایک دو بار اخبار پڑھتے ہیں۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ لڑکیوں میں اپنے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں افسانے پڑھنے کا رجحان زیادہ عام ہے،خاص طور پر سیاہ فام لڑکیاں ادب کی بےحد شوقین ہیں۔مطالعہ میں شامل تمام نسلی اقلیتوں میں سیاہ فام لڑکیاں کتابیں پڑھنے کے شوق میں سب سے آگے ہیں جن میں سے 16 فیصد کے مطابق انھوں نے ایک ماہ کی مدت میں 10 سے زائد کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔علاوہ ازیں رہورٹ میں واضح کیا گیا ہےکہ 24.3 فیصد طلبہ کے جواب کے مطابق ان کے والدین اس بات کی پرواہ نہیں کرتے ہیں کہ وہ کتابیں پڑھتے ہیں یا نہیں۔مجموعی طور پر 55.2 فیصد طلبہ نے کہا کہ وہ کتابیں پڑھنے کے مقابلے میں ٹیلی وڑن دیکھنا پسند کرتے ہیں۔لڑیسی ٹرسٹ کے ڈائریکٹر جوناتھن ڈگلس نے کہا کہ والدین کو بتانے کی ضرورت ہے کہ بچے کی ترقی میں ان کا کتنا اہم کردار ہے کیونکہ ابتدائی عمرکا مطالعہ بچوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…