ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

وفاق 18ویں ترمیم سے دیوالیہ نہیں ہو ا حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہوا،محمود اچکزئی پھٹ پڑے

datetime 4  اپریل‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کیلئے سازش کی جارہی ہے، وفاق 18ویں ترمیم سے نہیں بلکہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہو گیا ، ہمارا سرمایہ جمہوریت ہے اور کسی بھی قیمت پر جمہوریت کے خلاف سازشوں کو کامیاب نہیں ہونگے۔

پاکستان کو اگر حقیقی معنوںمیں چلانا ہے تو ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اورجمہوریت کی بالا دستی ہونی چاہئے، موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر موجودہ حکومت کے خلاف میدان عمل میں نکلیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر ملکی خبررساں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی ضررورت ہے جب تک ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہونگے تو اس طرح ترقی بہت مشکل ہے ۔جمہوری جماعتوں کو اس لئے سزا دی جارہی ہے کہ وہ ملک میںآئین وقانون کی بالادستی چاہتے تھے مگر کچھ قوتوں کو وہ منظور نہیں ہے اور ملک نے ایسے حکمرانوں کومسلط کیا جو نہ جمہوریت کی بقاء جانتے ہیں اور نہ ہی ملک کی ترقی وخوشحالی چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا پاکستان کو اگر حقیقی معنوںمیں چلانا ہے تو ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اورجمہوریت کی بالا دستی ہونی چاہئے ۔نواز شریف کو چوری پر سزا نہیں دی جا رہی بلکہ وہ ان قوتوں کی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہ اور پاکستان سمیت تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

اگر کسی نے بھی مستقبل میں افغانستان کی بربادی میں حصہ لیا تو ان کے لئے مستقبل میں اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس طرح امن نہیں ہوگا کہ دنیا کی مرضی چلے گی بلکہ امن آنے کے بعد وہاں پر افغانستا ن کے عوام کی مرضی ہونی چاہئے۔ افغانوں اور خصوصاپشتونوں کو جنگوں کی وجہ سے بہت سی مشکلات درپیش ہیں اور اس وقت جو مذاکرات ہو رہے ہیں یہ مذاکرات اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔

جب تک مذاکرات میں افغانستان کے عوام کی مرضی کو شامل نہیں کیا جا تا ۔تمام فریقین کو اس میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اٹھاوریں ترمیم کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں کیونکہ اٹھارویں ترمیم میں تمام اقوام کو ان کا حق دیا گیا ہے غیر جمہوری قوتیں اٹھارویں ترمیم کو برادشت کرنے کیلئے تیا رنہیں ہیں ۔اس لئے انہوں نے ملک میں غیر جمہوری حکومت کو مسلط کر دیا ۔اگر کسی کو پاکستان عزیز ہے تو اداروں کو سیاست سے دور رہنا ہوگا ۔

ہمیں ایک دوسرے کیساتھ گزارا کرنے کیلئے تیار ہیں۔پشتونوں کو مزید غلام نہیں دیکھنا چاہتے جو ہمیں حق نہیں دے گا ہم بز ور طاقت لینگے ہم ملک میں ہر چیز میں برابر حصہ چاہتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم اس میں رہتے ہیں مگر ہم کسی کی کالونی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی نے فتح کیا ہے رضاکارانہ طور پر فیڈریشن میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان میں پشتون بحیثیت قوم دوسری شہری کے حیثیت سے رہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ہمیں اپنے حقوق پر اختیار دیا جائے اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام اداروں میں آبادی کی بنیاد پر حصہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون بحیثیت قوم ساٹھ سال انگریزوں کے خلاف نہیں لڑتے تو آج پاکستان آزاد نہیں ہوتے پاکستان کو اگر چلانا ہے تو جمہوری طریقے سے چلایا جائے اور اس ملک کا واحد چلانے کا حل جمہوریت ہے آئین اور جمہوریت کو کچھ ہوا تو دفاع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی جمہوری قوتوں کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں سازشیں ہو رہی ہیں پہلے کشمکش تھا اب کشمکش پختہ ہو گیا ۔انہوں نے کہا کہ آٹھارویں ترمیم سے بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن کچھ قوتوں اٹھارویں ترمیم کو متنازعہ بنانے کے لئے سازشیں کی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…