نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارت میں بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کی تنظیم آرایس ایس نے ریاست ہریانہ میں ایک مسجد سمیت مسلمانوں کے گھر اور املاک نذر آتش کر دی گئی ہیں۔دہلی سے 37 کلو میٹر دور واقع فرید آباد میں گاوں اٹالی میں ایک مسجد کی تعمیر جاری تھی جس کو ہندو¿ںنے پہلے مسجد کو نذر آتش کیا بعد ازاں مسلمانوں کی رہائشی آباد پر حملہ آور ہوئے۔ اٹالی میں 5سال قبل مسجد اور مندر ایک ساتھ تعمیر کیے جا رہے تھے، مگر اراضی کے تنازع کے باعث مسجد کا تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا رواں ماہ عدالت نے مسجد کی تعمیر کی اجازات دی تھی، یوں 5 سال بعد مسجد کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔مسلمانوں کی جانب سے مسجد کی چھت کی تکمیل کا آغاز کیا گیا تھا۔مقامی افراد کے مطابق 10 شر پسند ہندو مسجد میں داخل ہوئے جن کے ہاتھوں میں پیٹرول کے کین تھے، انہوں نے مسجد میں پیٹرول چھڑک دیا اور آگ لگا دی۔انتہا پسند ہندووں کے حامی موٹر سائیکلوں پر مسجد کے باہر موجود تھے جنہوں دروازے پر لگی نام کی تختی کو بھی توڑ دیا۔ہندوستان کے اردو اخبار روزنامہ سیاست کی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) سے تھا۔گاوں اٹالی میں مسلمانوں کے سربراہ ممتاز علی نے بتایا کہ جاٹ چاہتے تھے کہ یہاں مسجد تعمیر نہ ہو کیونکہ وہ ساتھ والے پلاٹ پر مندر تعمیر کرنا چاہتے تھے، جس پر مسلمان عدالت گئے اور فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا، اسی لیے مسلمانوں نے مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا۔اٹالی گاوں میں 20 مکان بھی نذر آتش کی گئی، جن میں سے 18 مسلمانوں کے ہیں۔ہندووں کے حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں اکثریت مسلمان نوجوانوں کی ہے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔جاٹوں کے حملوں کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور گاو¿ں میں دفعہ 144 نافذ کی البتہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔پولیس کے مطابق 20 افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے، جن کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔مسلم آبادی حفاظت کی غرض سے ایڈیشنل کمشنر کے دفتر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اب تک مسلم آبادی حفاظت کی غرض سے ایڈیشنل کمشنر کے دفتر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ادیت دھاہیا کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے افراد کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا جس کے بعد ان کو واپس گھروں کر بھیج دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دیی گئی ہے۔واضح رہے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر نذر آتش کیے گئے اس روز بھی 500 پولیس اہلاکر علاقے میں تعینات تھے۔علاقے میں پہنچنے والے مسلمانوں کے مطابق ان کے گھروں کا تمام سامان آر ایس ایس کے کارکن لوٹ کر لے جا چکے ہیں جبکہ بعض مکانوں کو گرایا بھی گیا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی سروس بند، نہ ٹکٹ نہ لینڈنگ کی اجازت ہوگی
-
خاتون کو ہراساں کرنے پر نجی بینک کے 4افسران کیخلاف مقدمہ



















































