جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

آئین کے آرٹیکل 160(3)اے کوگھیرننے کا طریقہ ڈھونڈا جا رہا ہے، حکومت دراصل کرنا کیا چاہتی ہے؟رضا ربانی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 29  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء  اور سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160(3) اے کوگھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حکومت آئین سے چھیڑ چھاڑ کے طریقوں سے باز رہے، این ایف سی ایوارڈ کو10فیصد تک کم کرنا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف پسند صوبوں میں 57.5 فیصد تقسیم کے نظام سے خوش نہیں۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنا چاہتے ہیں۔

جس کے تحت یہ چاہتے ہیں کہ صوبوں کا 10فیصد تک حصہ کم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ماضی کے ایوارڈ سے کم نہیں ہو گا۔ رضا ربانی نے کہا کہ آئی ایم ایف پسند صوبوں میں 57.5 فیصد تقسیم کے نظام سے خوش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل160(3)اے کوگھیرنے کے طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔حکومت آئین سے چھیڑ چھاڑ کے طریقوں سے باز رہے۔ صوبائی خود مختاری کو ختم کرنے کی ایسی کوششیں ماضی میں بھی کی گئیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ صوبوں سے فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیرکے منصوبوں میں حصے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ وفاقی منصوبوں کیلئے صوبائی فنڈ سے حصہ ڈالنے کا طریقہ ہے۔ دوسری جانب وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصہ کم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کا ان کا پورا حق ملے گا، آئی ایم ایف سے این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل مشروط نہیں۔ سول سیکرٹریٹ میں نیشنل فنانس کمیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کیلئے مذاکرات بڑے خوش آئند رہے۔ صوبہ سندھ سمیت کسی صوبے کی جانب سے کوئی بڑے اعتراضات نہیں آئے۔انہوں نے کہا کہ 9ویں قومی مالیاتی کمیشن میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جائے گا۔ آئین میں صوبوں کا جو حصہ درج ہے اس کو کسی بھی طرح سے کم نہیں کیا جا سکتا۔ این ایف سی ایوارڈ کی تشکیل آئی ایم ایف سے مشروط نہیں۔ آئی ایم ایف سے بات چل رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…