پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے مزید 4،1 اپوزیشن رہنما کو جنگی جرائم کے الزام میں خوفناک سزا سنادی گئی

datetime 29  مارچ‬‮  2019 |

ڈھاکا(آن لائن) بنگلادیش میں جماعت اسلامی کے مزید 4 اور ایک اپوزیشن رہنما کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان کی حامی تنظیم جماعت اسلامی کے 4 رہنماؤں اور ایک اپوزیشن رہنما کو قتل، اغوا، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور زیادتی کے الزامات میں سزائے موت سنادی ہے۔

وزیراعظم شیخ حسینہ کی جانب سے 1971 کی جنگ کے حوالے سے بنائے گئے متنازع ٹریبیونل کے حکم پر جماعت اسلامی کے 6 سرکردہ رہنماؤں کو پھانسی دی جاچکی ہے جب کہ جماعت اسلامی پر پاکستان کی حمایت کا الزام لگا کر پہلے ہی پابندی عائد کردی گئی تھی۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد ٹریبیونل عالمی قوانین سے متصادم ہے جس میں شفافیت کو برقرار نہیں رکھا گیا اور اب تک سنائے گئے فیصلوں میں ملزمان کو دفاع کا مکمل موقع فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ٹھوس شواہد پیش کیے گئے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹربیونل آئینی ادارہ نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔واضح رہے کہ مسلسل تیسری بار وزیراعظم منتخب ہونے والی شیخ حسینہ نے اپنی آمرانہ سوچ کا ثبوت دیتے ہوئے اکثر سیاسی مخالفین بشمول سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کو یا تو قید کر رکھا ہے یا پھر جماعت اسلامی جیسی اپوزیشن پر پابندی عائد کرکے اس کے رہنماؤں کو تختہ دار پر چڑھا دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مزید 4 اور ایک اپوزیشن رہنما کو جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیش کی ایک خصوصی عدالت نے پاکستان کی حامی تنظیم جماعت اسلامی کے 4 رہنماؤں اور ایک اپوزیشن رہنما کو قتل، اغوا، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور زیادتی کے الزامات میں سزائے موت سنادی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…