پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

عرب لیگ کے رکن ممالک کے متفقہ فیصلے سے شام کو رکنیت مل سکتی ہے : تیونس

datetime 28  مارچ‬‮  2019 |

تیونس سٹی (این این آئی)تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی نے کہا ہے کہ عرب لیگ کے تمام ممالک کے متفقہ فیصلے سے شام کو رکنیت مل سکتی ہے، قضیہ فلسطین کے حوالے سے’’ امریکی صدی کی ڈیل‘‘ کے کسی امن منصوبے بارے کوئی علم نہیں، تیونس اورسعودی عرب درمیان

دو طرفہ تعلقات بلند ترین سطح پر ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق تیونسی صدر نے کہا کہ تیونس کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سعودی عرب کے درمیان پائے جانے والے اختلاف رائے کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے سعودی عرب پر تنقید کا تیونس کے سرکاری موقف کی عکاسی نہیں۔الجزائر کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر السبسی کا کہنا تھا کہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کیں مگر الجزائری قوم اب انہیں اقتدار نہیں دیکھنا چاہتی۔شام کے مقبوضہ وادی گولان پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر بات کرتے ہوئے تیونسی صدر نے کہاکہ گولان چوٹیوں پر امریکی فیصلہ صرف امریکا تک محدود ہے اور دنیا کے لیے اسے تسلیم کرنا ضروری نہیں۔مسئلہ فلسطین سے متعلق بات چیت میں صدر السبسی نے کہا کہ قضیہ فلسطین کے حوالے سے امریکی صدی کی ڈیل کے کسی امن منصوبے کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ صدر السبسی نے کہا کہ اگر جلا وطن کوئی شہر واپس آنا چاہتا ہے تو اسے نہیں روکا جائے گا۔السبسی نے کہا کہ عرب لیگ میں شام کی رکنیت تمام عرب ممالک کا متفقہ فیصلہ ہے اور تمام ممالک کے اتفاق رائے سے شام کو عرب لیگ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ تیونس کی میزبانی میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں شام حاضر نہیں ہوگا۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…