پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

نامور بین الاقوامی برانڈ نے ’عمران سینڈل‘ کے نام سے پشاوری چپل متعارف کرادی

datetime 24  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر برانڈ کرسچن لوبوٹن نے ’عمران سینڈل‘ کے نام سے پشاوری چپل متعارف کرادی۔میڈیا رپور ٹ کے مطابق فرانس سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت فیشن ڈیزائنر کرسچن لوبوٹن نے پشاوری چپل کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث اسے دنیائے فیشن میں ایک بار پھر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ کرسچن لوبوٹن کی جانب سے متعارف کرائی گئی

چپل کے حوالے سے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ بین الاقوامی سطح پر مشہور برانڈ نے بھی عمران خان سے متاثر ہو کر یہ چپل متعارف کرائی ہے یا پھر اس چپل کے ذریعے فیشن ڈیزائنر نے پاکستانی آرٹسٹ عمران قریشی کو خراج عقیدت پیش کیا ۔عمران سینڈل کا تلوا لال رنگ اور اس کا اوپری حصہ چمکدار اور نوکیلے اسٹڈ پر مشتمل ہے جس پر لوبوٹن کا لوگو بھی نمایاں ہے۔کرسچن لوبوٹن کی جانب سے عمران سینڈل کی قیمت کے بارے میں ابھی اعلان نہیں کیا گیا اس لیے پشاوری چپل کے شیدائیوں کو اس کی تعارفی قیمت کا بے چینی سے انتظار رہے گا۔اس سے قبل انگش فٹ ویئر سر پال اسمتھ نے بھی 2014 میں پشاوری چپل کو رابرٹ کے نام سے متعارف کرایا تھا اور اس کی تعارفی قیمت 300 ڈالر رکھی گئی تھی اس کے علاوہ فورایور21 نے بھی 2017 میں کولاپوری چپل کو اپنے نام سے متعارف کرایا تھا۔عمران قریشی 1972 میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فائن آرٹس میں بی اے کی ڈگری لی جہاں وہ اب ایک استاد کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔عمران قریشی کو 2016 میں آرٹ ناؤ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا اور انہیں 2013 اور 2015 میں ڈوئچے بینک کا آرٹسٹ آف دی ایئر قرار دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…