ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی

datetime 29  ستمبر‬‮  2025 |

کابل(این این آئی)افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز بند کردیں۔سائبر سکیورٹی اور انٹرنیٹ گورننس پر نظر رکھنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ پورے ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن کا بلیک آؤٹ نافذ ہے۔ تنظیم کے مطابق قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی عام حالات کے مقابلے میں صرف 14فیصد رہ گئی ہے اور یہ صورتحال جان بوجھ کر انٹرنیٹ سروسز کو منقطع کرنے کے مترادف لگتی ہے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس کا کابل بیورو مقامی وقت کے مطابق شام 6بج کر 15منٹ کے قریب مواصلاتی رابطے سے محروم ہوگیا، جس میں موبائل فون سروس بھی شامل تھی۔

رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں انٹرنیٹ پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور کئی صوبوں میں فائبر آپٹک کنکشن منقطع کر دئیے تھے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر شمالی صوبے بلخ میں بھی فائبر آپٹک انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔صوبائی ترجمان عطا اللہ زید نے 16ستمبر کو سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ یہ اقدام برائی کی روک تھام کیلئے اٹھایا گیا ہے اور ملک بھر میں متبادل انتظامات کیے جائیں گے تاکہ بنیادی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…