پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں دو خوفناک دھماکے، صوبائی نائب گورنر‘ صوبائی انٹیلی جنس سربراہ ،متعدد سرکاری محکموں کے صوبائی سربراہوں کے ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ 

datetime 23  مارچ‬‮  2019 |

ہلمند(این این آئی) افغان صوبہ ہلمند کے صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ شہرمیں بم کے دو خوفناک دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور 30 سے زائد دیگر زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اکانومی ڈائریکٹویٹ کے صوبائی سربراہ محمد خان نصرت بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں صوبائی گورنر سمیت متعدد سرکاری افسرو اہلکاربھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز صبح دس بجے صوبائی صدرمقام لشکرگاہ شہر میں واقع کرزئی سپورٹس سٹیڈیم میں یوم کسان کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہورہی تھی جس میں صوبائی گورنر سمیت بڑی تعداد میں سرکاری حکام بھی شامل تھے کہ اچانک سٹیڈیم دو خوفناک دھماکوں سے گونج اْٹھا جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم چار افراد جاں بحق اور31 دیگر شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں صوبائی گورنر‘ محکمہ اطلاعات کے مقامی سربراہ اور صوبائی کونسل کے دو اراکین سمیت متعدد سرکاری افسر اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل بتائے جاتے ہیں ۔عینی شاہدین‘ ہسپتال ذرائع اور مقامی حکام کے مطابق گورنر معمولی زخمی ہوئے ہیں تاہم اْن کی حالت کے بارے میں فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکا۔ مقامی حکام کے مطابق پہلا دھماکہ سٹیڈیم میں نصب بم کے نتیجے میں ہوا جس کے بعد تقریب کے شرکاء میں افراتفری پھیل گئی اور وہ اپنی جانیں بچانے کے لئے تقریب چھوڑ کربھاگنے لگے کہ اس دوران نصب دوسرابم بھی دھماکہ سے پھٹ گیا جس کے باعث متعدد افرادہلاک و زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے فوری بعد امدادی کاروائیاں شروع کردی گئیں اور ہلاک و زخمی افراد کو قریبی ہسپتال پہنچادیاگیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ دھماکوں میں ہلاک و زخمی افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں اور بعض عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان

عمرزواک اورافغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق دھماکوں میں چارافراد ہلاک اور31 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں البتہ حکام نے گورنر اور دیگر سرکاری افسروں کے ہلاک و زخمی ہونے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں ۔ادھر ایک غیرملکی میڈیا نے طالبان ترجمان ذبیخ اللہ مجاہد کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ طالبان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے صوبائی نائب گورنر‘ صوبائی انٹیلی جنس سربراہ اورمتعدد سرکاری محکموں کے صوبائی سربراہوں کے ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…