ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

ایشیا کی 92 فیصد آبادی کو آلودہ فضا سے سخت خطرہ ہے،اقوام متحدہ کا انتباہ

datetime 22  مارچ‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن نے کہاہے کہ ایشیاء کی 92 فیصد آبادی کو شدید آلودہ ماحول کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اس خطے کے رہائشیوں کو صحت کے ہوالے سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ بھارت، چین، بینکاک اور جنوبی کوریاکا شمار ایشیا کے

ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں فضا خطرناک حد تک آلودہ اور زہریلی ہے۔ ان ممالک نے فضا میں غباراور آلودگی کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جو زیادہ کارآمدثابت نہیں ہوئے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت کا دارالحکومت دہلی دنیا کا آلودہ ترین شہر جانا جاتا ہے جہاں گذشتہ سال حکومت نے چوراہوں میں بڑے بڑے آلات نصب کرنے کا ارادہ کیا تھاجو فضا کو شفاف کرنے میں مددگار ہوں گے۔ اس کے علاوہ بسوں کی چھتوں پر بھی ایئرفلٹر نصب کیے جائیں جو بس کی حرکت کے ساتھ ساتھ ہوا میں موجود آلودہ عناصر کو اپنی طرف کھینچ لیں گے۔ اس سال بینکاک میں جنوری کے کئی ہفتوں تک گہری دھند نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے مختلف طریقے اپنائے۔ مختلف اوور پاسز پر پانی کا چھڑکاو کیا گیا اور ڈرونز کے ذریعے بھی فضا میں پانی پھینکا گیا۔ حکومت ننے مصنوعی طریقے سے بارش پیدا کرنے کاتجربہ بھی آزمایا جو کامیاب نہ رہا۔ جنوبی کوریا نے بھی مصنوعی بارش پیدا کرنے کا تجربہ کیا تھا جس سے صرف چند منٹ کے لیے بارش برسی تھی جو کہ آلودہ تھی۔ اس سال ہانگ کانگ نے 3.7 کلومیٹر پر محیط ایسی سرنگ کھولی ہے جس میں ہواکو شفاف کرنے کا دنیا کا سب بڑا آلہ ہے۔ ہانگ کانگ کی حکومت کے مطابق یہ ا?لہ فضا میں موجود 80 فیصد خطرناک ذرات اور نائیٹروجن ڈائیوآکسائیڈ دور کرے گا۔ چین کے شمالی شہر شیان میں حکومت نے ایک بہت بڑا آلہ لگا نے کا تجربہ کیا ہے جودس کلومیٹر کے دائرے میں موجود ٹھوس اور مائع ذرات کوپندرہ فیصد کم کرے گا۔ مختلف کمپنیوں نے عوام کی تکلیف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحت کے نام پر مختلف اشیا بیچنا شروع کی ہوئی ہیں جن میں کینڈ ہواسے لے کر پھیپھڑے صاف کرنے والی چائے شامل ہیں۔نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا، کینیڈا اور سوٹزرلینڈ ایسے

ممالک میں شامل ہیں جو شفاف ہوا بوتل میں بند کر کہ آلودہ شہروں کے صارفین کو بیچتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں بوتلوں میں بند شفاف ہوا کے ذریعے سانس لینے سے صحت پر خاطر خواہ اثرات نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں سیاحی مقامات کا کاروبار بھی خوب چمکا ہوا ہے۔ ایک اعدادو شمار کے مطابق چین کے آلودہ شہر بیجنگ اور شنگھائی سے ہر سال تقریباً دس لاکھ لوگ تازہ ہوا کی غرض سے پر فضا مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…